Showing posts with label محسن شافی. Show all posts
Showing posts with label محسن شافی. Show all posts

Sunday, 27 September 2026

جو کر کے رفو پیرہن ناچتے ہیں

 جو کر کے رفُو پیرہن ناچتے ہیں

چھُپانے کو دردِ کُہن ناچتے ہیں

ذرا بھی نہیں فکر سُود و زیاں کی

سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں

ہُوا تذکرہ جو تِرے گیسوؤں کا

مِرے ساتھ اہلِ سُخن ناچتے ہیں

Monday, 30 March 2026

روز و شب کا نصاب لگتی ہے

 روز و شب کا نصاب لگتی ہے

زندگی اک کتاب لگتی ہے

دوستو کیا تمہیں مری صورت

خستہ حال و خراب لگتی ہے

عشق میں عمر جو گزاری ہے

اب سنہرا سا خواب لگتی ہے

Thursday, 21 August 2025

ان کے در کو دوا سمجھتے تھے

 ان کے در کو دوا سمجھتے تھے

یعنی دار الشفا سمجھتے تھے

کیوں نہ آتا عذاب بستی پر

لوگ خود کو خدا سمجھتے تھے

وہ بھی اپنی قبیل کا نکلا

ہم جسے پارسا سمجھتے تھے

Sunday, 20 July 2025

بھرے زخم پھر تازہ دم دیکھتے ہیں

 بھرے زخم پھر تازہ دم دیکھتے ہیں

عجب دوستوں کے کرم دیکھتے ہیں

کوئی لشکر فاتحیں جا رہا ہے

فضاؤں میں اونچے علم دیکھتے ہیں

خیال صنم بھی جمال صنم ہے

اب اس طور روئے صنم دیکھتے ہیں

Tuesday, 20 April 2021

غم چھپانے میں دن گزرتا ہے

مسکرانے میں دن گزرتا ہے

غم چھپانے میں دن گزرتا ہے

آپ کا کیا ہے آپ کا اکثر

دل دکھانے میں دن گزرتا ہے

یاد آئے تو ان کے کوچے میں

آنے جانے میں دن گزرتا ہے