جو کر کے رفُو پیرہن ناچتے ہیں
چھُپانے کو دردِ کُہن ناچتے ہیں
ذرا بھی نہیں فکر سُود و زیاں کی
سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں
ہُوا تذکرہ جو تِرے گیسوؤں کا
مِرے ساتھ اہلِ سُخن ناچتے ہیں
جو کر کے رفُو پیرہن ناچتے ہیں
چھُپانے کو دردِ کُہن ناچتے ہیں
ذرا بھی نہیں فکر سُود و زیاں کی
سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں
ہُوا تذکرہ جو تِرے گیسوؤں کا
مِرے ساتھ اہلِ سُخن ناچتے ہیں
روز و شب کا نصاب لگتی ہے
زندگی اک کتاب لگتی ہے
دوستو کیا تمہیں مری صورت
خستہ حال و خراب لگتی ہے
عشق میں عمر جو گزاری ہے
اب سنہرا سا خواب لگتی ہے
ان کے در کو دوا سمجھتے تھے
یعنی دار الشفا سمجھتے تھے
کیوں نہ آتا عذاب بستی پر
لوگ خود کو خدا سمجھتے تھے
وہ بھی اپنی قبیل کا نکلا
ہم جسے پارسا سمجھتے تھے
بھرے زخم پھر تازہ دم دیکھتے ہیں
عجب دوستوں کے کرم دیکھتے ہیں
کوئی لشکر فاتحیں جا رہا ہے
فضاؤں میں اونچے علم دیکھتے ہیں
خیال صنم بھی جمال صنم ہے
اب اس طور روئے صنم دیکھتے ہیں
مسکرانے میں دن گزرتا ہے
غم چھپانے میں دن گزرتا ہے
آپ کا کیا ہے آپ کا اکثر
دل دکھانے میں دن گزرتا ہے
یاد آئے تو ان کے کوچے میں
آنے جانے میں دن گزرتا ہے