آنکھ چُرا کر نکل گئے، ہُشیاری کی
سمجھ گئے تم بھی موقعے کی باریکی
دریا پار سفر کی جب تیاری کی
موسم نے ہر بار بڑی غداری کی
اب لگتا ہے مُڑ کے دیکھ تو سکتا تھا
آخر حد بھی ہوتی ہے خودداری کی
آنکھ چُرا کر نکل گئے، ہُشیاری کی
سمجھ گئے تم بھی موقعے کی باریکی
دریا پار سفر کی جب تیاری کی
موسم نے ہر بار بڑی غداری کی
اب لگتا ہے مُڑ کے دیکھ تو سکتا تھا
آخر حد بھی ہوتی ہے خودداری کی
رتجگے
اپنی اپنی فکر
اپنے اپنے ڈر
اپنے اپنے درد لیے
تم اور میں
ادھ سوئے سے ادھ جاگے سے
مجھے معلوم ہے
میری تمام ان سنی دستکوں
بنا پڑھی چِٹھیوں
مایوس درخواستوں کے عوض
ایک لمبی خاموشی کے بعد
وہ کھٹکھٹائے گا میرا در
ہوس
کچھ بوندوں نے مل کر
میری ہتھیلی پر
چھوٹی سی ایک جھیل بنائی
جس میں
پورے چاند کا عکس اتر آیا
وحشی من نے اُکسایا
زباں کو اپنی گنہ گار کرنے والا ہوں
خموش رہ کے ہی اظہار کرنے والا ہوں
میں کرنے والا ہوں ہر خیر خواہ کو مایوس
ابھی میں جرم کا اقرار کرنے والا ہوں
چھپانی چاہیے جو بات مجھ کو دنیا سے
اسی کا آج میں اظہار کرنے والا ہوں