Showing posts with label سبودھ لال. Show all posts
Showing posts with label سبودھ لال. Show all posts

Wednesday, 31 March 2021

آنکھ چرا کر نکل گئے ہشیاری کی

 آنکھ چُرا کر نکل گئے، ہُشیاری کی

سمجھ گئے تم بھی موقعے کی باریکی

دریا پار سفر کی جب تیاری کی

موسم نے ہر بار بڑی غداری کی

اب لگتا ہے مُڑ کے دیکھ تو سکتا تھا

آخر حد بھی ہوتی ہے خودداری کی

Thursday, 25 March 2021

اپنی اپنی فکر اپنے اپنے ڈر

 رتجگے


اپنی اپنی فکر

اپنے اپنے ڈر

اپنے اپنے درد لیے

تم اور میں

ادھ سوئے سے ادھ جاگے سے

مجھے معلوم ہے

 مجھے معلوم ہے


میری تمام ان سنی دستکوں

بنا پڑھی چِٹھیوں

مایوس درخواستوں کے عوض

ایک لمبی خاموشی کے بعد

وہ کھٹکھٹائے گا میرا در

کچھ بوندوں نے مل کر میری ہتھیلی پر

 ہوس


کچھ بوندوں نے مل کر

میری ہتھیلی پر

چھوٹی سی ایک جھیل بنائی

جس میں

پورے چاند کا عکس اتر آیا

وحشی من نے اُکسایا

زباں کو اپنی گنہ گار کرنے والا ہوں

 زباں کو اپنی گنہ گار کرنے والا ہوں

خموش رہ کے ہی اظہار کرنے والا ہوں

میں کرنے والا ہوں ہر خیر خواہ کو مایوس

ابھی میں جرم کا اقرار کرنے والا ہوں

چھپانی چاہیے جو بات مجھ کو دنیا سے

اسی کا آج میں اظہار کرنے والا ہوں