اس تماشائے سرِ عام سے پہلے پہلے
اِذنِ کہرام ہوا بام سے پہلے پہلے
مقتلِ خواب سے اک خاص خبر آئی ہے
آج سو جائیں گے ہم شام سے پہلے پہلے
شکل پیاسوں کی چلو یاد کرو یاد کرو
ہاں ابھی اور اسی جام سے پہلے پہلے
اس تماشائے سرِ عام سے پہلے پہلے
اِذنِ کہرام ہوا بام سے پہلے پہلے
مقتلِ خواب سے اک خاص خبر آئی ہے
آج سو جائیں گے ہم شام سے پہلے پہلے
شکل پیاسوں کی چلو یاد کرو یاد کرو
ہاں ابھی اور اسی جام سے پہلے پہلے
ہوا پھر عکس اپنا یوں جدا آہستہ آہستہ
کہ جیسے ہاتھ سے رنگ حنا آہستہ آہستہ
بہت مانوس نظروں سے اچانک کیسے ہٹ جاتا
میں منظر سے پس منظر ہوا آہستہ آہستہ
پھر اس کے بعد ڈھونڈا جائے گا میرا بدن یعنی
مجھے مشہور کر دے گی ہوا آہستہ آہستہ
بے سبب تھوڑی جاگتے ہیں ہم
رات کا درد بانٹتے ہیں ہم
خون رستہ ہے چاند سے شب بھر
نوکِ خامہ سے چاٹتے ہیں ہم
کوئی آہٹ طواف کرتی ہے
دائرہ وار ناچتے ہیں ہم
سمت کچھ طے نہیں سفینے کا
فیصلہ کر لیا ہے جینے کا
لوگ پوچھیں گے کیا کہو گے پھر
اِک بہانہ تو ہو قرینے کا
بیدلی کا ہے دل سے وہ رشتہ
جو انگوٹھی سے اک نگینے کا