Showing posts with label نور بجنوری. Show all posts
Showing posts with label نور بجنوری. Show all posts

Friday, 22 March 2024

میں نے مہکائے ہیں شعلے میں نے دہکائے ہیں پھول

 ابنِ آدم


میں نے مہکائے ہیں شعلے، میں نے دہکائے ہیں پھول

میں نے کاٹے ہیں صنوبر، میں نے چُومے ہیں ببول 

میں نے ڈھالے ہیں عزائم، میں نے توڑے ہیں اصول 

ولولے میرے  پیمبر، ہمہمے میرے رسول 

کون کہتا ہے کہ میں فانی ہوں مشتِ خاک ہوں 

میں زمیں کا فخر ہوں، میں  نازشِ افلاک ہوں

Sunday, 6 February 2022

دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے

 دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے

شبِ فرقت ابھی دو چار پلک باقی ہے

سرخ ہونٹوں کے دیے ذہن میں روشن ہیں ابھی

ابھی افکار میں زلفوں کی مہک باقی ہے

بازوؤں میں تِرے پیکر کی لطافت رقصاں

انگلیوں میں تِری باہوں کی لچک باقی ہے

Sunday, 1 January 2017

شاید اس کا نامہ رنگیں اک دن چمکے دست صبا میں

شاید اس کا نامۂ رنگیں اک دن چمکے دستِ صبا میں
شاید کوئی تارا چمکے، فرقت کی گھنگھور گھٹا میں
لاکھ اندھیرے رستہ روکیں، لاکھ بگولے سر ٹکرائیں
آ نکلے ہیں دِیے🪔 جلانے،۔ ہم دیوانے تیز ہوا میں
چاند سے چہرے بجھے بجھے ہیں، قاتل آنکھیں لٹی لٹی ہیں
شہرِ وفا کی خبریں ہم کو مل جاتی ہیں دشتِ وفا میں

یہاں کسی نے چراغ وفا جلایا تھا

یہاں کسی نے چراغِ وفا جلایا تھا 
تبھی یہ غم کدۂ دل بھی جگمگایا تھا
جنوں کی شوخ اداؤں نے فاش کر ہی دیا
وہ ایک راز خِرد نے جسے چھپایا تھا
شبِ بہار کی شہ زادیو! خبر ہے تمہیں
ابھی ابھی کوئی ناشاد مسکرایا تھا

Monday, 19 December 2016

سنگ دشنام کو گوہر جانا

سنگِ دُشنام کو گوہر جانا
ہم نے دشمن کو بھی دلبر جانا
ننگِ الفت ہی رہا پروانہ
اس کو آتا ہے فقط مر جانا
پوچھ لینا در و دیوار کا حال
اے بگولو! جو مِرے گھر جانا

شہریاروں کے غضب سے نہیں ڈرتے یارو

شہریاروں کے غضب سے نہیں ڈرتے یارو
ہم اصولوں کی تجارت نہیں کرتے یارو
خونِ حسرت ہی سہی، خونِ تمنا ہی سہی
ان خرابوں میں کوئ رنگ تو بھرتے یارو
پھر تو ہر خاک نشیں عرشِ بریں پر ہوتا
صرف آہوں سے مقدر جو سنورتے یارو

چمکنے لگا ہے ترا غم بہت

چمکنے لگا ہے تِرا غم بہت
دِیے ہو چلے اب تو مدھم بہت
گھٹاؤں میں طوفاں کے آثار ہیں
تِری زلف ہے آج برہم بہت
یہاں لہلہائے ہیں اشکوں میں باغ
نہ اترائے پھولوں پہ شبنم بہت

مے کشو بادۂ احمر کا چھلکتا ہوا جام

مرگِ آزر (منٹو کی یاد میں)

مے کشو! بادۂ احمر کا چھلکتا ہوا جام
لبِ ساقی کے چناروں کی طرف لوٹ گیا
آہ، وہ انجمِ افتادہ سرِ جادۂ غم
ظلمتیں لے کے ستاروں کی طرف لوٹ گیا
خارزاروں پہ چھڑک کر دلِ سرکش کا لہو
آخرِ کار بہاروں کی طرف لوٹ گیا

Sunday, 8 November 2015

وہی محتسب کی ملامتیں وہی ایک وضح حسیں مری


وہی محتسب کی ملامتیں وہی ایک وضحِ حسیں مِری
وہی رنگ رنگ سبُو مِرا، وہی داغ داغ جبیں مِری
تِرا شہر شہرِ عجیب ہے، یہاں کون ہے جو غریب ہے
کوئی کہہ رہا ہے فلک مِرا، کوئی کہہ رہا ہے زمیں مِری
مِری حسرتوں کے دیار میں، تِری جستجو سے بہار ہے
تِرا نقشِ پا ہے جہاں کہیں، ہے جبینِ شوق وہیں مِری

سر وہی سنگ وہی لذت آزار وہی

سر وہی، سنگ وہی، لذتِ آزار وہی
ہم وہی، لوگ وہی، کوچۂ دلدار وہی
اک جہنم سے دھکتا ہُوا، تاحدِ نظر
وقت کی آگ وہی، شعلۂ رفتار وہی
شیشہٴ چشم پہ چھایا ہُوا اک زلف کا عکس
قریہٴ دار وہی، سایۂ دیوار وہی

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے
شام ڈھلے ان کہساروں میں اپنا کھوج نہ پاؤ گے
جانے پہچانے سے چہرے اپنی سمت بلائیں گے
قدم قدم پر لیکن اپنے سائے سے ٹکراؤ گے
ہر ٹیلے کی اوٹ سے لاکھوں وحشی آنکھیں چمکیں گی
ماضی کی ہر پگڈنڈی پر نیزوں میں گھِر جاؤ گے

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں
اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں
قصۂ درد لیے پھِرتی ہے گلشن کی ہوا
میرے دامن میں تِرے پیار کی خوشبو بھی نہیں
چھِن گیا میری نگاہوں سے بھی احساسِ جمال
تیری تصویر میں پہلا سا وہ جادو بھی نہیں

Sunday, 29 December 2013

سروں پر چرخ زنگاری رہے گا

سروں پر چرخِ زنگاری رہے گا
 میاں! یہ سال بھی بھاری رہے گا
 وہی خُوئے سِتمگاراں رہے گی
 وہی آئینِ خُوں خواری رہے گا
 رہے گا صبر بھی سینوں میں، لیکن
بہ مجبوری، بہ لاچاری رہے گا