ابنِ آدم
میں نے مہکائے ہیں شعلے، میں نے دہکائے ہیں پھول
میں نے کاٹے ہیں صنوبر، میں نے چُومے ہیں ببول
میں نے ڈھالے ہیں عزائم، میں نے توڑے ہیں اصول
ولولے میرے پیمبر، ہمہمے میرے رسول
کون کہتا ہے کہ میں فانی ہوں مشتِ خاک ہوں
میں زمیں کا فخر ہوں، میں نازشِ افلاک ہوں