Showing posts with label غوث سیوانی. Show all posts
Showing posts with label غوث سیوانی. Show all posts

Saturday, 28 October 2023

اے مری جان غزل آ میں تجھے پیار کروں

 جان غزل


اے مِری جانِ غزل آ میں تجھے پیار کروں

روزِ روشن تِرے چہرے سے اجالا مانگے

شام شرمائے تِری زلفِ دوتا کے آگے

تیری مسکان سے غنچوں کا مقدر جاگے

تجھ پہ قربان دل و جان مِرے یار کروں

اے مری جان غزل آ میں تجھے پیار کروں

Sunday, 23 April 2023

کسی خطا کی طرح تو کبھی سزا کی طرح

 کسی خطا کی طرح تو کبھی سزا کی طرح

زندگی ہم نے گزاری ہے بد دعا کی طرح

عجیب درد کا عالم ہے، کیا کِیا جائے

کلیجہ چاک ہُوا جاتا ہے قبا کی طرح

تمہارے بعد نہ رستہ نہ کوئی منزل ہے

بھٹک رہا ہوں کسی ان سُنی صدا کی طرح

Tuesday, 25 October 2022

مست کبیرا کس کی دُھن پر گاتا ہے

 مست کبیرا کس کی دُھن پر گاتا ہے

اس دنیا کا چرخا کون چلاتا ہے

ہر صبح سورج کو کون جگاتا ہے

شام ڈھلے چادر میں کون سُلاتا ہے

کون مُرلیا کانہا سے بجواتا ہے

اس دُھن پر پھر رادھا کو نچواتا ہے

Wednesday, 12 October 2022

کیسا ہو گا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رے

 کیسا ہو گا دیس پیا کا؟ کیسا پیا کا گاؤں رے؟

کیسی ہو گی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رے

چاندی جیسے پیڑ وہاں کے ہیرے موتی پھول و پھل

سونے کی پیلی دھرتی پر رکھتے ہوں گے پاؤں رے

پی پی پپیہے بولتے ہوں گے کانوں میں رس گھولتے ہوں گے

ٹُھمری ہو گی کوئل کی کُو، کجری کاگا کی کاؤں رے

Friday, 22 April 2022

دل کی نیا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائے

دل کی نیّا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائے

ڈگ مگ ڈولے ہائے رے نیّا ڈگ مگ ڈولے ہائے

کالے کالے میگھا برسیں کل دھرتی مُسکائے

سوندھی ماٹی کی خوشبو سے سارا جگ بھر جائے

تن بھی بھیگے من بھی بھیگے ساون رس برسائے

شیتل شیتل جل بِرہن کے من میں آگ لگائے

Sunday, 16 January 2022

تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے

تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے

کہیں تُلسی نہیں، چندن نہیں ہے

کلب میں ملتے ہیں رادھا، کنہیا

کہ جمنا تٹ نہیں مدھوبن نہیں ہے

یہاں ہر اور آتش ہے، دھواں ہے

کہیں بھی آج کل ساون نہیں ہے

Wednesday, 19 May 2021

بھیگی بھیگی برکھا رت کے منظر گیلے یاد کرو

 بھیگی بھیگی برکھا رُت کے منظر گیلے یاد کرو

دو ہونٹ رسیلے یاد کرو دو نین کٹیلے یاد کرو

تم ساتھ ہمارے چلتے تھے صحرا بھی سُہانا لگتا تھا

گُل پوش دکھائی دیتے تھے سب ریت کے ٹیلے یاد کرو

گُھنگرو کی صدائیں آتی تھیں سنتور کبھی بج اُٹھتے تھے

ماحول میں گُونجا کرتے تھے سنگیت رسیلے یاد کرو