جان غزل
اے مِری جانِ غزل آ میں تجھے پیار کروں
روزِ روشن تِرے چہرے سے اجالا مانگے
شام شرمائے تِری زلفِ دوتا کے آگے
تیری مسکان سے غنچوں کا مقدر جاگے
تجھ پہ قربان دل و جان مِرے یار کروں
اے مری جان غزل آ میں تجھے پیار کروں
جان غزل
اے مِری جانِ غزل آ میں تجھے پیار کروں
روزِ روشن تِرے چہرے سے اجالا مانگے
شام شرمائے تِری زلفِ دوتا کے آگے
تیری مسکان سے غنچوں کا مقدر جاگے
تجھ پہ قربان دل و جان مِرے یار کروں
اے مری جان غزل آ میں تجھے پیار کروں
کسی خطا کی طرح تو کبھی سزا کی طرح
زندگی ہم نے گزاری ہے بد دعا کی طرح
عجیب درد کا عالم ہے، کیا کِیا جائے
کلیجہ چاک ہُوا جاتا ہے قبا کی طرح
تمہارے بعد نہ رستہ نہ کوئی منزل ہے
بھٹک رہا ہوں کسی ان سُنی صدا کی طرح
مست کبیرا کس کی دُھن پر گاتا ہے
اس دنیا کا چرخا کون چلاتا ہے
ہر صبح سورج کو کون جگاتا ہے
شام ڈھلے چادر میں کون سُلاتا ہے
کون مُرلیا کانہا سے بجواتا ہے
اس دُھن پر پھر رادھا کو نچواتا ہے
کیسا ہو گا دیس پیا کا؟ کیسا پیا کا گاؤں رے؟
کیسی ہو گی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رے
چاندی جیسے پیڑ وہاں کے ہیرے موتی پھول و پھل
سونے کی پیلی دھرتی پر رکھتے ہوں گے پاؤں رے
پی پی پپیہے بولتے ہوں گے کانوں میں رس گھولتے ہوں گے
ٹُھمری ہو گی کوئل کی کُو، کجری کاگا کی کاؤں رے
دل کی نیّا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائے
ڈگ مگ ڈولے ہائے رے نیّا ڈگ مگ ڈولے ہائے
کالے کالے میگھا برسیں کل دھرتی مُسکائے
سوندھی ماٹی کی خوشبو سے سارا جگ بھر جائے
تن بھی بھیگے من بھی بھیگے ساون رس برسائے
شیتل شیتل جل بِرہن کے من میں آگ لگائے
تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے
کہیں تُلسی نہیں، چندن نہیں ہے
کلب میں ملتے ہیں رادھا، کنہیا
کہ جمنا تٹ نہیں مدھوبن نہیں ہے
یہاں ہر اور آتش ہے، دھواں ہے
کہیں بھی آج کل ساون نہیں ہے
بھیگی بھیگی برکھا رُت کے منظر گیلے یاد کرو
دو ہونٹ رسیلے یاد کرو دو نین کٹیلے یاد کرو
تم ساتھ ہمارے چلتے تھے صحرا بھی سُہانا لگتا تھا
گُل پوش دکھائی دیتے تھے سب ریت کے ٹیلے یاد کرو
گُھنگرو کی صدائیں آتی تھیں سنتور کبھی بج اُٹھتے تھے
ماحول میں گُونجا کرتے تھے سنگیت رسیلے یاد کرو