نہیں ہے تیرے تغافل پہ اعتراض مجھے
کہ اس میں بھی نظر آتا ہے کوئی راز مجھے
وہ کون تھا جو خدا کے قریب کرتا رہا
وہ کون تھا جو پڑھاتا رہا نماز مجھے
میں دشت دشت بھٹکتا ہوا نظر آتا
تُو کارِ عشق سے رکھتا اگر نہ باز مجھے
مِرے نصیب سے جلنے لگے جہاں سارا
عطا ہو مرتبہ ایسا شہِ حجازﷺ مجھے
بس ایک شب کے لیے میہماں وہ آیا تھا
پھر اس کے بعد مِلی کب مِری بیاض مجھے
حسن جمیل
No comments:
Post a Comment