Sunday, 25 October 2026

نہیں ہے تیرے تغافل پہ اعتراض مجھے

 نہیں ہے تیرے تغافل پہ اعتراض مجھے

کہ اس میں بھی نظر آتا ہے کوئی راز مجھے

وہ کون تھا جو خدا کے قریب کرتا رہا

وہ کون تھا جو پڑھاتا رہا نماز مجھے

میں دشت دشت بھٹکتا ہوا نظر آتا

تُو کارِ عشق سے رکھتا اگر نہ باز مجھے

مِرے نصیب سے جلنے لگے جہاں سارا

عطا ہو مرتبہ ایسا شہِ حجازﷺ مجھے

بس ایک شب کے لیے میہماں وہ آیا تھا

پھر اس کے بعد مِلی کب مِری بیاض مجھے


حسن جمیل

No comments:

Post a Comment