Showing posts with label خادم رزمی. Show all posts
Showing posts with label خادم رزمی. Show all posts

Saturday, 5 June 2021

کیا بکتے کہ ہم خود ہی کو درکار بہت تھے

 کیا بکتے کہ ہم خود ہی کو درکار بہت تھے

ورنہ یہاں اپنے بھی خریدار بہت تھے

اس کارِ محبت میں تھے کچھ مرحلے وہ بھی

جو سہل نظر آئے، پر دشوار بہت تھے

اک لطف تھا ان میں بھی جو ہم سہتے رہے ہیں

ورنہ تو تیری راہ میں، آزار بہت تھے

Monday, 7 September 2020

پیڑ پرندے شام صدائیں بستی کی

پیڑ، پرندے، شام، صدائیں بستی کی
بھُولے بِسرے خواب، فضائیں بستی کی
جی مہکاتی، کھیتوں، کھلیانوں کی باس
سپنا سپنا کھیل،۔ ہوائیں، بستی کی
پچھم سمت کو پنچھی جاتے شام ڈھلے
اب تو اکثر یاد دلائیں بستی کی

چاندنی چوپال میرا گاؤں گبھرو قہقہے

چاندنی، چوپال، میرا گاؤں، گبھرو، قہقہے
آنگنوں میں موتئیے سے لوگ، خوشبو قہقہے
دور تک پھیلے ہوئے سرسبز کھیتوں کا طلسم
سر پہ چڑھ کر بولتا محنت کا جادو، قہقہے
سبز چارہ، دھان، گندم، باجرہ، گنا، کپاس
یہ مِری بستی کی فصلیں ہیں کہ ہر سُو قہقہے

Sunday, 6 September 2020

آنکھ لگتے ہی صدا دے کے جگاتا کیوں ہے

آنکھ لگتے ہی صدا دے کے جگاتا کیوں ہے
وہ مِرے خواب کی زنجیر ہلاتا کیوں ہے
جس کا رشتہ ہے کوئی اب نہ تعلق مجھ سے
وہ غزل بن کے مِری سوچ میں آتا کیوں ہے
اب بھی تنہائی میں اک یاد کی صورت مجھ کو
میرے ہونے کا وہ احساس دلاتا کیوں ہے

غیروں کی طرح خود سے جدا ہو گئے ہیں ہم

غیروں کی طرح خود سے جدا ہو گئے ہیں ہم
کس جرمِ جستجو کی سزا ہو گئے ہیں ہم
یوں بے نیاز سود و زیاں ہیں کہ جس طرح
اک قرضِ عمر تھے کہ ادا ہو گئے ہیں ہم
پھرتے ہیں زرد پتوں سی کچھ خواہشیں لیے
پیلی رُتوں کی تیز ہوا ہو گئے ہیں ہم

Saturday, 5 September 2020

خیال و خواب میں دیوار و در بھی ساتھ رکھو

خیال و خواب میں دیوار و در بھی ساتھ رکھو 
مسافرت میں رہو، اور گھر بھی ساتھ رکھو
عجب نہیں کہ شہادت طلب کرے منزل
کرو پڑاؤ تو گردِ سفر بھی ساتھ رکھو
کچھ اس لیے بھی وہ سیلاب بھیج دیتا ہے
کہ بستیوں میں رہو اور کھنڈر بھی ساتھ رکھو

دور وہ حد نظر پر اک الاؤ دیکھنا

دور وہ حدِ نظر پر اک الاؤ دیکھنا
دشتِ ظلمت کے مسافر کا پڑاؤ دیکھنا
میں لبِ دریا کا ہوں وہ کھیت جس کو رات دن
اپنی آنکھوں سے پڑے اپنا کٹاؤ دیکھنا
اس طرف کھیتوں پہ چادر دھوپ کی پھیلی ہوئی
اس طرف دریا پہ بادل کا جھکاؤ دیکھنا

Friday, 4 September 2020

ایک سناٹے کی باہیں دور تک پھیلی ہوئی

ایک سناٹے کی باہیں دور تک پھیلی ہوئی
پھر وہی چپ چاپ راہیں دور تک پھیلی ہوئی
دشتِ غربت میں تنہا اک ستارہ زخم زخم
اور ظلمت کی سپاہیں دور تک پھیلی ہوئی
کیا ہوئے کچھ تو بتا اے دھوپلی رُت! وہ شجر
وہ سکوں پرور پناہیں، دور تک پھیلی ہوئی

Thursday, 3 September 2020

پتھر کے تذکرے سے کعبے کی داستان تک

پتھر کے تذکرے سے کعبے کی داستان تک
خوابِ سکوں میں انساں پہنچا کہاں کہاں تک
کب تک فریب کھائیں، زخموں کو پھول کہہ کر
سوچوں کو مصلحت کا ملبوس دیں کہاں تک
پھر پیڑ پیڑ چپ کا آسیب خیمہ زن ہے
پھر گردِ خوف پہنچی ہر شاخِ گلستاں تک

دشت ہے دریا ہے خیمہ ہے کوئی

دشت ہے دریا ہے خیمہ ہے کوئی 
اور اس خیمے میں پیاسا ہے کوئی
آنکھ میں آنسو لیے ہنستا ہوا
شہر میں اک شخص مجھ سا ہے کوئی
پھر پلٹ آیا ہوں اپنے آپ میں
پھر مِرے اندر سے بولا ہے کوئی

یہ اور بات پرندے شجر سے باہر ہیں

یہ اور بات پرندے شجر سے باہر ہیں
شکاریوں کو مگر ان کے گھر میسر ہیں
مجھے نہیں، مِری پرواز روک سکتا ہے
کہ میں گرفت میں اسکی نہیں، مِرے پر ہیں
کئی رُتوں سے مِری تشنگی پکارتی ہے
کہاں ہیں ابر تِرے، کس طرف سمندر ہے

Friday, 24 April 2015

نہیں یہ بات کہ ہم تلخیاں نہیں رکھتے

نہیں یہ بات کہ ہم تلخیاں نہیں رکھتے
کشادہ ظرف ہیں لب پر فغاں نہیں رکھتے
ہمارے سر سے کڑی دھوپ اور جائے کہاں
اسے خبر ہے کہ ہم سائباں نہیں رکھتے
غلط نہ سوچ کہ جسموں پہ چیتھڑوں کے ساتھ
ہم ایسے لوگ کوئی داستاں نہیں رکھتے

جب بھی مانگوں گا ہری رت کی دعا مانگوں گا میں

جب بھی مانگوں گا، ہری رُت کی دُعا مانگوں گا میں
گاؤں کا باسی ہوں رزمیؔ، اور کیا مانگوں گا میں
چاندنی کی شال چاہوں گا اندھیری رات میں
دھوپ میں سایہ گھنیرے پیڑ کا مانگوں گا میں
پھاگنی شاموں میں عریاں شاخچوں کے واسطے
چیتلی صبحیں، گلابوں کی ردا مانگوں گا میں

Sunday, 26 October 2014

عمر کی شام ہوئی اور میں پیاسا مولا

عمر کی شام ہوئی اور میں پیاسا مولا
اب تو دریا، کوئی جھرنا، کوئی برکھا مولا
رُت کوئی صورتِ مرہم بھی میسر آتی
داغ رہ جاتا مگر زخم تو بھرتا مولا
بے مداوا جو رہا کل بھی بھری دنیا میں
اب بھی رِِستا ہے وہی زخمِ تمنا مولا

وہی غبار کڑی دھوپ زخم پا اور ہم

وہی غبار، کڑی دھوپ، زخمِ پا اور ہم
نظر میں خواب سی منزل کا راستا اور ہم
وہی بسی ہوئی آنکھوں میں حسرتیں تشنہ
وہی لبوں پہ سسکتی ہوئی دعا اور ہم
جسے پکارتے عمریں گزر گئیں اپنی
ہے انتظار ابھی اس کے جواب کا اور ہم

وہی ہیں پیاسیں برہنہ پائی سلگتی راہیں سراب اب بھی

وہی ہیں پیاسیں، برہنہ پائی، سُلگتی راہیں، سراب اب بھی
نزول فرما ہیں ہم پہ بھُوکیں، اذیتیں اور عذاب اب بھی
نہ کھول سکتے ہیں بند آنکھیں نہ دیکھ پاتے ہیں راہ اپنی
سلگتے سورج کے رُوپ میں ہے اندھیری شب کا عتاب اب بھی
کسے بتائیں کہ خیمہ بردوش پھرتے عمریں گزر گئی ہیں
وطن میں رہ کر بھی بے وطن ہیں ہم ایسے خانہ خراب اب بھی