Showing posts with label احمد مشتاق. Show all posts
Showing posts with label احمد مشتاق. Show all posts

Sunday, 1 May 2022

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کے دیکھ لیتا ہوں

 تم آئے ہو، تمہیں بھی آزما کے دیکھ لیتا ہوں

تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں

ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیں

میں ان کمروں میں پھر شمیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں

عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے

تِری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں

Friday, 29 April 2022

شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں

شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں

وہ دوپہروں کی خموشی وہ ہماری باتیں

آنکھیں کھولوں تو دکھائی نہیں دیتا کوئی

بند کرتا ہوں تو ہو جاتی ہیں جاری باتیں

کبھی اک حرف نکلتا نہیں منہ سے میرے

کبھی اک سانس میں کر جاتا ہوں ساری باتیں

Thursday, 27 January 2022

خشک پلکوں پہ بھی نمناک ستارے ہی رہے

 خشک پلکوں پہ بھی نمناک ستارے ہی رہے

ہم ہمیشہ تیری یادوں کے سہارے ہی رہے

تم ہمارے نہ رہے، اور کسی کے ہو کر

ہم کسی اور کے ہو کر بھی تمہارے ہی رہے

ہم تو سمجھے تھے کہ آؤ گے ہماری خاطر

ہم نے گیسو جو سنوارے تھے سنوارے ہی رہے

Monday, 14 September 2020

دل کو یاد شام ہجر پھر اداس کر گئی

دل کو یادِ شامِ ہجر پھر اداس کر گئی
پھر چراغِ وصل سے روشنی اتر گئی
دیکھ اے فسردگی، زندگی عجیب ہے
خواہشِ بہار اگر مر گئی، تو مر گئی
ساری رات ایک خواب دیکھتا رہا ہوں میں
ایک ہی خیال میں زندگی گزر گئی

ترا وجود ہی سب سے بڑی حقیقت ہے

ترا وجود ہی سب سے بڑی حقیقت ہے
تجھے بھلا نہیں سکتا، یہی محبت ہے
گلہ نہیں ہے تری بے تعلقی سے مجھے
میں جانتا ہوں تجھے بھولنے کی عادت ہے
دلِ حزیں کو بڑی دیر میں ہوا معلوم
یہی کہ تیری محبت میری ضرورت ہے

Thursday, 7 April 2016

چشم و لب کیسے ہوں رخسار ہوں کیسے تیرے

چشم و لب کیسے ہوں رخسار ہوں کیسے تیرے
ہم خیالوں میں بناتے رہے نقشے تیرے
تیرے ساونت کو سُولی کی زباں چاٹ گئی
جسم ابھی گرم تھا اور بال تھے گیلے تیرے
کیا کہوں کیا تِرے افسردہ دلوں پر گزری
کیسے تاراج ہوئے آئینہ خانے تیرے

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

یہ کون خواب میں چھُو کر چلا گیا مِرے لب
پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مِرے لب
یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئے
مگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مِرے لب
اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے
وہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مِرے لب

کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئے

کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئے
ٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں میں آ گئے
افسردگی کی لَے بھی تِرے قہقہوں میں تھی
پت جھَڑ کے سُر بہار کے جھالوں میں آ گئے
اڑ کر کہاں کہاں سے پرندوں کے قافلے
نادِیدہ پانیوں کے خیالوں میں آ گئے

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا
اب جہاں دیوار ہے، پہلے وہاں دروازہ تھا
درد کی اک موج ہر خواہش بہا کر لے گئی
کیا ٹھہرتیں بستیاں، پانی ہی بے اندازہ تھا
رات ساری خواب کی گلیوں میں ہم چلتے رہے
کھڑکیاں روشن تھیں، لیکن بند ہر دروازہ تھا

Wednesday, 6 April 2016

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی
باہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھی
ایسے پریشاں تو نہ تھے ٹوٹے ہوئے سناٹے
جب عشق کی تیرے مِرے غم پر بسر اوقات تھی 
کچھ تم کہو تم نے کہاں کیسے گزارے روز و شب
اپنے نہ ملنے کا سبب تو گردش حالات تھی

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو
انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو
مکیں تھے یا کسی کھوئے ہوئی جنت کی تصویریں
مکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو
ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئے
وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

مسلسل یاد آتی ہے چمک چشم غزالاں کی

مسلسل یاد آتی ہے چمک چشمِ غزالاں کی
اکیلی ذات ہے اور رات ہے جنگل بیاباں کی
ذرا دیکھو ہوائے صبح کیسے کھینچ لائی ہے
اکیلی پنکھڑی میں دلکشی سارے گلستاں کی 
انہیں گلیوں میں کھلتے تھے ملاقاتوں کے دروازے
انہیں گلیوں میں چلتی ہیں ہوائیں شامِ ہجراں کی

رات پھر رنگ پہ تھی اس کے بدن کی خوشبو

رات پھر رنگ پہ تھی اس کے بدن کی خوشبو
دل کی دھڑکن تھی کہ اڑتے تھے لہو میں جگنو
جیسے ہر شے ہو کسی خواب فراموش میں گم
چاند چمکا نہ کسی یاد نے بدلا پہلو
صبح کے زینۂ خاموش پہ قدموں کے گلاب
شام کی بند حویلی میں ہنسی کا جادو

Saturday, 19 March 2016

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں
بجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میں
دھوئیں سے آسماں کا رنگ میلا ہوتا جاتا ہے
ہرے جنگل بدلتے جا رہے ہیں کارخانوں میں
بھلی لگتی ہے آنکھوں کو نئے پھولوں کی رنگت بھی
پرانے زمزمے بھی گونجتے رہتے ہیں کانوں میں

تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں

تم آئے ہو، تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں
تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں
ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیں
میں ان کمروں میں پھر شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں
عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے
تِری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے

ہر لمحہ ظلمتوں کی خدائی کا وقت ہے
شاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہے
کہتی ہے ساحلوں سے یہ جاتے سمے کی دھوپ
ہشیار! ندیوں کی چڑھائی کا وقت ہے
ہوتے ہی شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے
یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں
سبب یہ ہے کہ اک مدت کنارے پر رہا ہوں میں
یہ جھونکے جن سے دل میں تازگی آنکھوں میں ٹھنڈک ہے
انہی جھونکوں سے مرجھایا ہوا شب بھر رہا ہوں میں
تِرے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کو
چمکتی دھوپ میں سائے اکھٹے کر رہا ہوں میں

Friday, 4 March 2016

رخصت شب کا سماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

رخصتِ شب کا سماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا
اتنا روشن آسماں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا
دور تک پھیلا ہوا صحرا نظر آیا مجھے
ایک ذرہ بھی جہاں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا
دیدنی تھا موجِ دریا کا نشاطِ بے پناہ
جلوۂ آبِ رواں پہلے کبھی دیکھا نہ تھا

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو
یہ نیا کھیل ملا ہے مِری تنہائی کو
تھا جو سینے میں چراغِ دلِ پُرخوں نہ رہا
چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو
دلِ افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں
کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

مونس دل کوئی نغمہ کوئی تحریر نہیں

مونسِ دل کوئی نغمہ کوئی تحریر نہیں
حرف میں رس نہیں آواز میں تاثیر نہیں
آ ہی جاتا ہے اجڑتی ہوئی دنیا کا خیال
باور آیا کہ تِرا درد ہمہ گیر نہیں
ہجر اک وقفۂ بیدار ہے دو نیندوں میں
وصل اک خواب ہے جسکی کوئی تعبیر نہیں