Showing posts with label راشد فاروقی. Show all posts
Showing posts with label راشد فاروقی. Show all posts

Wednesday, 20 July 2022

یہ واقعہ تو لگے ہے سنا ہوا سا کچھ

 یہ واقعہ تو لگے ہے سنا ہوا سا کچھ

ہر ایک شخص کہے ہے کہا ہوا سا کچھ

وہ گہرے گہرے سبھی زخم بھر گئے جب سے

نیا سا درد لگے ہے سہا ہوا سا کچھ

یہ تیز و تند ہوائیں اڑا ہی لے جائیں

اگر بچا کے نہ رکھوں بچا ہوا سا کچھ

Sunday, 13 March 2022

پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا

 پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا

مایوسیوں کا زہر گلے میں اتر گیا

آنکھوں کو کیا چھلکنے سے روکا غضب ہوا

لگتا ہے سارا جسم ہی اشکوں سے بھر گیا

دیکھے تہہ چراغ گھنی ظلمتوں کے داغ

اور میں فزون کیف و مسرت سے ڈر گیا

Saturday, 29 January 2022

اس تگ و دو نے آخرش مجھ کو نڈھال کر دیا

 اس تگ و دو نے آخرش مجھ کو نڈھال کر دیا

جینے کے اہتمام نے جینا محال کر دیا

اب ہم اسیرِ زلف ہیں کس کے کسی کو کیا غرض

اس نے تو اپنی قید سے ہم کو بحال کر دیا

بزم طرب سجائیں کیا اب ہم ہنسیں ہنسائیں کیا

تم نے تو ہم کو جان جاں وقف ملال کر دیا

Saturday, 25 December 2021

سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں

 سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں

جو آنے والے تھے، وہ انقلاب آئے نہیں

یہ کیا حضر کہ سفر کی ضرورتیں ہی نہ ہوں

یہ کیا سفر کہ کہیں پر سراب آئے نہیں

وہ ایک نیند کی جو شرط تھی ادھوری رہی

ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب آئے نہیں

Friday, 24 December 2021

سفر سے کس کو مفر ہے لیکن یہ کیا کہ بس ریگزار آئیں

 سفر سے کس کو مفر ہے لیکن یہ کیا کہ بس ریگزار آئیں

کہیں کوئی سائبان بھی دے کہ گَردِ وحشت اتار آئیں

یہ خشک سالی کہ مُدتوں سے چمن میں آ کر پسر گئی ہے

کبھی تو نخلِ مراد جھومے، کہیں تو کچھ برگ و بار آئیں

زمیں کہ گلپوش بھی رہی اور فلک پہ قوسِ قزح بھی جھومی

مزے مزے کی وہ ساعتیں تھیں، چلو یہ دن بھی گزار آئیں

Sunday, 21 February 2021

بھلے دن آئیں تو آنے والے برے دنوں کا خیال رکھنا

 بھلے دن آئیں تو آنے والے برے دنوں کا خیال رکھنا

تمام خوشیوں کے جمگھٹوں میں بھی تھوڑا تھوڑا ملال رکھنا

وہ جا رہا ہو تو واپسی کے تمام امکان جان لینا

جو لوٹ آئے تو 'کیسے گزری' یہ اس سے پہلا سوال رکھنا

اگر کبھی یوں لگے کہ سب کچھ اندھیری راتوں کے داؤ پر ہے

تو ایسی راتوں میں ڈر نہ جانا تُو چاند یادیں اجال رکھنا