یہ واقعہ تو لگے ہے سنا ہوا سا کچھ
ہر ایک شخص کہے ہے کہا ہوا سا کچھ
وہ گہرے گہرے سبھی زخم بھر گئے جب سے
نیا سا درد لگے ہے سہا ہوا سا کچھ
یہ تیز و تند ہوائیں اڑا ہی لے جائیں
اگر بچا کے نہ رکھوں بچا ہوا سا کچھ
یہ واقعہ تو لگے ہے سنا ہوا سا کچھ
ہر ایک شخص کہے ہے کہا ہوا سا کچھ
وہ گہرے گہرے سبھی زخم بھر گئے جب سے
نیا سا درد لگے ہے سہا ہوا سا کچھ
یہ تیز و تند ہوائیں اڑا ہی لے جائیں
اگر بچا کے نہ رکھوں بچا ہوا سا کچھ
پیارا سا خواب نیند کو چھو کر گزر گیا
مایوسیوں کا زہر گلے میں اتر گیا
آنکھوں کو کیا چھلکنے سے روکا غضب ہوا
لگتا ہے سارا جسم ہی اشکوں سے بھر گیا
دیکھے تہہ چراغ گھنی ظلمتوں کے داغ
اور میں فزون کیف و مسرت سے ڈر گیا
اس تگ و دو نے آخرش مجھ کو نڈھال کر دیا
جینے کے اہتمام نے جینا محال کر دیا
اب ہم اسیرِ زلف ہیں کس کے کسی کو کیا غرض
اس نے تو اپنی قید سے ہم کو بحال کر دیا
بزم طرب سجائیں کیا اب ہم ہنسیں ہنسائیں کیا
تم نے تو ہم کو جان جاں وقف ملال کر دیا
سوال گونج کے چپ ہیں جواب آئے نہیں
جو آنے والے تھے، وہ انقلاب آئے نہیں
یہ کیا حضر کہ سفر کی ضرورتیں ہی نہ ہوں
یہ کیا سفر کہ کہیں پر سراب آئے نہیں
وہ ایک نیند کی جو شرط تھی ادھوری رہی
ہماری جاگتی آنکھوں میں خواب آئے نہیں
سفر سے کس کو مفر ہے لیکن یہ کیا کہ بس ریگزار آئیں
کہیں کوئی سائبان بھی دے کہ گَردِ وحشت اتار آئیں
یہ خشک سالی کہ مُدتوں سے چمن میں آ کر پسر گئی ہے
کبھی تو نخلِ مراد جھومے، کہیں تو کچھ برگ و بار آئیں
زمیں کہ گلپوش بھی رہی اور فلک پہ قوسِ قزح بھی جھومی
مزے مزے کی وہ ساعتیں تھیں، چلو یہ دن بھی گزار آئیں
بھلے دن آئیں تو آنے والے برے دنوں کا خیال رکھنا
تمام خوشیوں کے جمگھٹوں میں بھی تھوڑا تھوڑا ملال رکھنا
وہ جا رہا ہو تو واپسی کے تمام امکان جان لینا
جو لوٹ آئے تو 'کیسے گزری' یہ اس سے پہلا سوال رکھنا
اگر کبھی یوں لگے کہ سب کچھ اندھیری راتوں کے داؤ پر ہے
تو ایسی راتوں میں ڈر نہ جانا تُو چاند یادیں اجال رکھنا