کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے
بہت آساں سفر ہونے لگا ہے
کہاں سے لاؤ گے تم ماں کی ممتا
اگر پردیس گھر ہونے لگا ہے
سنبھالو اب تو اس بیمار کو تم
فسانہ مختصر ہونے لگا ہے
کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے
بہت آساں سفر ہونے لگا ہے
کہاں سے لاؤ گے تم ماں کی ممتا
اگر پردیس گھر ہونے لگا ہے
سنبھالو اب تو اس بیمار کو تم
فسانہ مختصر ہونے لگا ہے
اس سے کہتا ہوں مِری جان! مِری جان نہ لے
اور ڈرتا ہوں, میری بات کہیں مان نہ لے
میں مسافر ہوں، مِرے پاس فقط دل ہے مِرا
میرا سامان یہی ہے، میرا سامان نہ لے
روز کاجل یونہی آنکھوں میں لگائے رکھنا
میری صورت کو زمانہ کہیں پہچان نہ لے
ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں
سفر کے استعارے دیکھتا ہوں
کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں
کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں
مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں
کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں
الوداعی بوسہ
پیاری امی جان کے نام
سلگتے صحرا کے جب سفر پر
میں گھر سے نکلا
تو میری ماں نے
یوں میرے ماتھے پہ ہونٹ رکھے تھے
ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں
سفر کے استعارے دیکھتا ہوں
کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں
کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں
مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں
کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں
کیسے رستے ہیں نگر کیسا ہے
زندگانی کا سفر کیسا ہے
تم تو اس گاؤں سے ہو آئے ہو
گاؤں کیسا ہے وہ گھر کیسا ہے
خار پتوں کی طرح اگتے ہیں
یہ عداوت کا شجر کیسا ہے
تو نہیں جب سے ہمسفر میرا
رہ گزر ہے نہ ہے شجر میرا
کون دے گا مجھے یہاں دستار
ہر کوئی چاہتا ہے سر میرا
تیرے جانے سے کچھ نہیں ہوتا
مجھ پہ ہونے لگا اثر میرا
پھر اسے الوداع کہا میں نے
خود سے خود کو جدا کیا میں نے
ماننا دل کا فیصلہ ہے اب
کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے
مشکلوں سے جسے قریب کیا
عُجلتوں میں گنوا دیا میں نے
زندگی اک نصاب ہے بابا
عمر بھر کا عذاب ہے بابا
روح میں درد یوں سمویا ہے
روز و شب اضطراب ہے بابا
بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں
تیرا جانا عذاب ہے بابا