Showing posts with label سلیمان جاذب. Show all posts
Showing posts with label سلیمان جاذب. Show all posts

Friday, 8 April 2022

کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے

 کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے 

بہت آساں سفر ہونے لگا ہے 

کہاں سے لاؤ گے تم ماں کی ممتا 

اگر پردیس گھر ہونے لگا ہے 

سنبھالو اب تو اس بیمار کو تم 

فسانہ مختصر ہونے لگا ہے 

Thursday, 24 March 2022

اس سے کہتا ہوں مری جان مری جان نہ لے

اس سے کہتا ہوں مِری جان! مِری جان نہ لے

اور ڈرتا ہوں, میری بات کہیں مان نہ لے

میں مسافر ہوں، مِرے پاس فقط دل ہے مِرا

میرا سامان یہی ہے، میرا سامان نہ لے

روز کاجل یونہی آنکھوں میں لگائے رکھنا

میری صورت کو زمانہ کہیں پہچان نہ لے

Thursday, 8 April 2021

ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں

 ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں

سفر کے استعارے دیکھتا ہوں

کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں

کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں

مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں

کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں

Friday, 19 March 2021

الوداعی بوسہ؛ پیاری امی جان کے نام

 الوداعی بوسہ

پیاری امی جان کے نام


سلگتے صحرا کے جب سفر پر

میں گھر سے نکلا

تو میری ماں نے

یوں میرے ماتھے پہ ہونٹ رکھے تھے

Thursday, 18 March 2021

ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں

 ستارے ہی ستارے دیکھتا ہوں

سفر کے استعارے دیکھتا ہوں

کبھی دیکھوں تلاطم خیز موجیں

کبھی حیراں کنارے دیکھتا ہوں

مقدر کی کہانی پڑھ رہا ہوں

کہاں تیرے اشارے دیکھتا ہوں

کیسے رستے ہیں نگر کیسا ہے

 کیسے رستے ہیں نگر کیسا ہے

زندگانی کا سفر کیسا ہے

تم تو اس گاؤں سے ہو آئے ہو

گاؤں کیسا ہے وہ گھر کیسا ہے

خار پتوں کی طرح اگتے ہیں

یہ عداوت کا شجر کیسا ہے

Wednesday, 17 March 2021

تو نہیں جب سے ہمسفر میرا

 تو نہیں جب سے ہمسفر میرا

رہ گزر ہے نہ ہے شجر میرا

کون دے گا مجھے یہاں دستار

ہر کوئی چاہتا ہے سر میرا

تیرے جانے سے کچھ نہیں ہوتا

مجھ پہ ہونے لگا اثر میرا

پھر اسے الوداع کہا میں نے

 پھر اسے الوداع کہا میں نے

خود سے خود کو جدا کیا میں نے

ماننا دل کا فیصلہ ہے اب

کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے

مشکلوں سے جسے قریب کیا

عُجلتوں میں گنوا دیا میں نے

Tuesday, 16 March 2021

زندگی اک نصاب ہے بابا

 زندگی اک نصاب ہے بابا

عمر بھر کا عذاب ہے بابا

روح میں درد یوں سمویا ہے

روز و شب اضطراب ہے بابا

بے وفا تو چلے ہی جاتے ہیں

تیرا جانا عذاب ہے بابا