میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو
خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو
متاعِ درد ملی ہے ہزار جتنوں سے
بہت سنبھال کے رکھا ہے اس خزانے کو
پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی
کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو
میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو
خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو
متاعِ درد ملی ہے ہزار جتنوں سے
بہت سنبھال کے رکھا ہے اس خزانے کو
پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی
کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو
یاد یوں آئی اس کے آنچل کی
شاخ لہرائے جیسے صندل کی
تُو بھی رویا ہے یاد کر کے ہمیں
کہہ رہی ہے لکیر کاجل کی
تیری آنکھوں پہ آ کے ختم ہوا
ذکر قاتل کا، بات مقتل کی
خوب تر کی جسے تلاش نہیں
اس پہ جینے کا راز فاش نہیں
روح کا انگ انگ زخمی ہے
جسم پر ایک بھی خراش نہیں
میں نے پا تو لیا خدا کو مگر
وہ میرا حاصلِ تلاش نہیں
اٹھ کے کیا ہم تِری گلی سے گئے
جان سے، دل سے، زندگی سے گئے
ہم نے اخلاص کی حدیں چھُو لیں
دوست پھر بھی نہ دُشمنی سے گئے
اک کلی کے بدن کو چھُو کر ہم
عمر بھر کے لیے ہنسی سے گئے
کوئی تازہ کنول نہیں ملتا
تیرا نعم البدل نہیں ملتا
اک حقیقت ہے دوستوں کا خلوص
ہاں، مگر آج کل نہیں ملتا
ذہن حساس ہو تو دنیا میں
چین کا ایک پل نہیں ملتا
رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں
چہرۂ غم کو دھو گئیں آنکھیں
نیند کے نیم سبز کھیتوں میں
فصل خوابوں کی بو گئیں آنکھیں
دیکھ کر سنگدل زمانے کو
خود بھی پتھر کی ہو گئیں آنکھیں