Showing posts with label مقسط ندیم. Show all posts
Showing posts with label مقسط ندیم. Show all posts

Thursday, 3 June 2021

میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو

 میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو

خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو

متاعِ درد ملی ہے ہزار جتنوں سے

بہت سنبھال کے رکھا ہے اس خزانے کو

پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی

کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو

Tuesday, 1 June 2021

یاد یوں آئی اس کے آنچل کی

 یاد یوں آئی اس کے آنچل کی

شاخ لہرائے جیسے صندل کی

تُو بھی رویا ہے یاد کر کے ہمیں

کہہ رہی ہے لکیر کاجل کی

تیری آنکھوں پہ آ کے ختم ہوا

ذکر قاتل کا، بات مقتل کی

خوب تر کی جسے تلاش نہیں

 خوب تر کی جسے تلاش نہیں

اس پہ جینے کا راز فاش نہیں

روح کا انگ انگ زخمی ہے

جسم پر ایک بھی خراش نہیں

میں نے پا تو لیا خدا کو مگر

وہ میرا حاصلِ تلاش نہیں

Monday, 31 May 2021

اٹھ کے کیا ہم تری گلی سے گئے

 اٹھ کے کیا ہم تِری گلی سے گئے

جان سے، دل سے، زندگی سے گئے

ہم نے اخلاص کی حدیں چھُو لیں

دوست پھر بھی نہ دُشمنی سے گئے

اک کلی کے بدن کو چھُو کر ہم

عمر بھر کے لیے ہنسی سے گئے

Saturday, 15 May 2021

کوئی تازہ کنول نہیں‌ ملتا

 کوئی تازہ کنول نہیں‌ ملتا

تیرا نعم البدل نہیں ملتا

اک حقیقت ہے دوستوں کا خلوص

ہاں، مگر آج کل نہیں ملتا

ذہن حساس ہو تو دنیا میں

چین کا ایک پل نہیں‌ ملتا

Tuesday, 17 November 2020

رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں

 رات رو رو کے سو گئیں آنکھیں

چہرۂ غم کو دھو گئیں آنکھیں

نیند کے نیم سبز کھیتوں میں

فصل خوابوں کی بو گئیں آنکھیں

دیکھ کر سنگدل زمانے کو

خود بھی پتھر کی ہو گئیں آنکھیں