Wednesday, 29 July 2026

کب تک چلتے رہو گے

 کب تک چلتے رہو گے


سر ہی کیا کم تھا وچاروں کی گھٹڑی سا

جو تم نے اُٹھا رکھا ہے پہاڑ سا

پگڑی کو

اس بوجھ کو لیے 

تم کب تک چلتے رہو گے

پھُول کھلانے کے لیے اس تنتر میں

تم کب تک جلتے رہو گے

ان چھُوئے سپنوں کو لیے کایا کے بھیتر ٹھٹھری سا


گوبند پرساد

No comments:

Post a Comment