حریف سنگ ہوں مٹی سے پیار کرتا ہوں
لہُو سے اپنے گُلابوں میں رنگ بھرتا ہوں
قدم قدم پہ تِرا انتظار کرتا ہوں
میں زندگی کے تجسس میں روز مرتا ہوں
بدن کے زخم صداقت پہ میری ہنستے ہیں
جب آئینے کے تخاطب سے میں گُزرتا ہوں
مِرے وجود سے قائم ہے کائنات مگر
مِٹا کے خود کو تجھے با وقار کرتا ہوں
نہ ذوقِ صحرا نوردی نہ عزمِ ہمسفری
عجیب لوگ ہیں جس شہر سے گُزرتا ہوں
فسادِ شہر نے پردہ اُٹھا دیا نشتر
میں رہزنوں سے کہاں رہبروں سے ڈرتا ہوں
ابوالخیر نشتر
No comments:
Post a Comment