صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں
حسین لوگ تِرے گاؤں میں رہے ہی نہیں
ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی
ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں
ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر
پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں
صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں
حسین لوگ تِرے گاؤں میں رہے ہی نہیں
ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی
ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں
ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر
پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں
جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے
سرخ لبادہ اوڑھ کے جانا پڑتا ہے
تم مِری سوچوں پر قبضہ رکھتے ہو
تم سے مجھ کو عشق نبھانا پڑتا ہے
ہم جیسوں کو وحشت تب اپناتی ہے
اک چوکھٹ پہ سیس جھکاتا پڑتا ہے
میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہو گا
جب تلک تلاطم میں معجزہ نہیں ہو گا
سب پرند شاخوں سے جاں بچا کے اڑتے ہیں
وہ جو مر گیا شاید وہ اڑا نہیں ہو گا
آسمان والے خود پھر تمہیں گرا دیں گے
گر تمہارے شانوں پر حوصلہ نہیں ہو گا
دریدہ دیکھ کر کپڑے ہمارے
اُداسی نے لیے بوسے ہمارے
ہمارا دل نہیں بس سر جُھکا تھا
ہُمکتے رہ گئے سجدے ہمارے
پھر اک برپا ہوئی صحرا میں مجلس
تبرّک میں بٹے کُرتے ہمارے