Showing posts with label علی ساجد. Show all posts
Showing posts with label علی ساجد. Show all posts

Monday, 16 February 2026

صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں

 صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں

حسین لوگ تِرے گاؤں میں رہے ہی نہیں

ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی

ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں

ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر

پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں

Monday, 3 February 2025

جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے

 جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے

سرخ لبادہ اوڑھ کے جانا پڑتا ہے

تم مِری سوچوں پر قبضہ رکھتے ہو

تم سے مجھ کو عشق نبھانا پڑتا ہے

ہم جیسوں کو وحشت تب اپناتی ہے

اک چوکھٹ پہ سیس جھکاتا پڑتا ہے

Monday, 9 December 2024

میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہو گا

 میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہو گا

جب تلک تلاطم میں معجزہ نہیں ہو گا

سب پرند شاخوں سے جاں بچا کے اڑتے ہیں

وہ جو مر گیا شاید وہ اڑا نہیں ہو گا

آسمان والے خود پھر تمہیں گرا دیں گے

گر تمہارے شانوں پر حوصلہ نہیں ہو گا

Monday, 25 November 2024

دریدہ دیکھ کر کپڑے ہمارے

 دریدہ دیکھ کر کپڑے ہمارے

اُداسی نے لیے بوسے ہمارے

ہمارا دل نہیں بس سر جُھکا تھا

ہُمکتے رہ گئے سجدے ہمارے

پھر اک برپا ہوئی صحرا میں مجلس

تبرّک میں بٹے کُرتے ہمارے