Showing posts with label علی محمد فرشی. Show all posts
Showing posts with label علی محمد فرشی. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

استعمال شدہ خواہش

 جوٹھا بوسہ

زندگی کی اترن

باسی محبت

ناخالص بھوک

نابالغ پیاس

استعمال شدہ خواہش

Tuesday, 22 February 2022

گلابی گوشت کا بھاؤ

 آج بھی دن اندھیرا ہے


اشتہار سے باہر

وہی قیمت ہے عورت کی

ازل سے جو مقرر ہے

زمینی منڈیوں میں

آسمانی مارکیٹوں میں

Friday, 16 October 2020

ستر ماؤں کا پیار

 ستر ماؤں کا پیار


کتابوں کا زینہ بنا کر

مچانی سے میں نے مٹھائی چرائی تو

گھر میں کسی کو بھی غصہ نہ آیا

یہ کم سِن ذہانت کی تاثیر تھی

یا شرارت کی شیریں شکر قندیوں جیسی عمروں کی لذت؟

Sunday, 30 August 2020

آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں

آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں
🦋
چلیں
تنہائی کے
اس غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا

ذرا سی دیر میں

ذرا سی دیر میں
پوری جنت تعمیر ہو گئی
آدھا جہنم بجھا دیا گیا
سات نئے آسمان کھول دئیے گئے
زمین سے خدا کا فاصلہ معلوم کر لیا گیا
اور میں اس عرصے میں
ایک بوسہ ہی تالیف کر سکا

Saturday, 29 August 2020

محبت سے خالی دنوں میں

محبت سے خالی دنوں میں

پھولوں کو پھپھوندی لگ جاتی ہے
اور تتلیاں خود کشی کرنے لگتی ہیں
چاند پر چمگادڑیں بسیرا کر لیتی ہیں
اور سورج سے راکھ گرنے لگتی ہے
شہد سنکھیے کی تاثیر پکڑ لیتا ہے

محبت سے کوئی جگہ خالی نہیں

مرض الموت سے محفوظ

محبت سے کوئی جگہ خالی نہیں
سوائے مٹی سے بھرے پیٹ کے
اور ان آنکھوں کے
جو اندھیرے میں دیکھ لیتی ہیں
کالی دولت
جو ہماری نسلوں کی ہڈیاں بیچ کر جمع کی گئی

Thursday, 27 August 2020

خواب جلنے کی بو

خواب جلنے کی بُو

میں اک شاعرہ کے ستاروں میں سوتا
رہا سات دن، سات راتوں کے چکر سے باہر
کہیں دور، صدیوں کی گنتی کی فرسودگی سے پرے
خواب گہ میں
زمانوں کا ریشم لپیٹے ہوئے
یونہی لیٹے ہوئے

موت خوبصورت ہو جاتی ہے

موت خوبصورت ہو جاتی ہے
موسم کی پہلی
ہلکی ہلکی بارش میں
قبرستان کی جانب جانے والے
بوڑھے
بچپن کی خواہش جیسے ہو جاتے ہیں

شاعری کی شرع میں

شاعری کی شرع میں
جوٹھا بوسہ
زندگی کی اترن
باسی محبت
ناخالص بھوک
نابالغ پیاس
استعمال شدہ خواہش

ایک دن کی لاش

 اقتباس از ایک دن کی لاش

وہ رات کیسی تھی
جس نے اپنے تمام بچے نِگل کے
سورج کا خون تھوکا
تو صبح گلیوں میں دن نہیں
دن کی لاش نکلی

علی محمد فرشی

Wednesday, 26 August 2020

بہت دیر کر دی

بارود گھر

بہت دیر کر دی
فرشتوں نے نیچے اترتے ہوئے
فاختہ
اپنی منقا رمیں
کیسے زیتون کی سبز پتی دبائے

تماشائی حیرت زدہ رہ گئے

تماشائی حیرت زدہ رہ گئے
تماشا گروں نے
کبوتر نکالے تھے
شیشے کے خالی کنستر سے
ماچس کی تیلی سے
بجلی کا کھمبا بنایا تھا

محبت ہم دونوں کو زپ کی طرح

Zipper

محبت
ہم دونوں کو
زِپ کی طرح
آپس میں جوڑ دیتی ہے
لیکن 
ایک ہی جھٹکے سے
ہم الگ ہو جاتے ہیں