Showing posts with label جوہر تماپوری. Show all posts
Showing posts with label جوہر تماپوری. Show all posts

Friday, 19 June 2026

یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

 یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا

چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا

موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا

دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے

پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا

Thursday, 15 May 2025

بجھ نہ جائے مرا دیا سائیں

 بُجھ نہ جائے مِرا دیا سائیں

تیز ہونے لگی ہوا سائیں

تُو ہی سُن لے کہ تُو ہی سنتا ہے

کون سُنتا ہے پھر دُعا سائیں

گھر جلانا بنا کے دنیا بھی

بند ہو اب یہ سلسلہ سائیں

Wednesday, 17 May 2023

کیا سنتے ہو رہنے بھی دو فریاد ہماری

کیا سنتے ہو رہنے بھی دو فریاد ہماری

خوں تم کو رلائے گی یہ روداد ہماری

سو سو نے پچھاڑا ہے ہزاروں کو بھی اکثر

حارج نہیں ہوتی کبھی تعداد ہماری

ہم چال چلن ٹھیک ہی رکھتے تو ہیں لیکن

گھٹتی نہیں اس قید کی میعاد ہماری

Tuesday, 15 June 2021

بیچ صحرا میں اپنا گھر نکلا

بیچ صحرا میں اپنا گھر نکلا

کیسا سودا ہمارے سر نکلا

جب سے آباد اس کی چاہت ہے

دل سے دنیا کا سارا ڈر نکلا

وہ بھی رہنے لگا ہے آنکھوں میں

عین پانی میں اس کا گھر نکلا