یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
بُجھ نہ جائے مِرا دیا سائیں
تیز ہونے لگی ہوا سائیں
تُو ہی سُن لے کہ تُو ہی سنتا ہے
کون سُنتا ہے پھر دُعا سائیں
گھر جلانا بنا کے دنیا بھی
بند ہو اب یہ سلسلہ سائیں
کیا سنتے ہو رہنے بھی دو فریاد ہماری
خوں تم کو رلائے گی یہ روداد ہماری
سو سو نے پچھاڑا ہے ہزاروں کو بھی اکثر
حارج نہیں ہوتی کبھی تعداد ہماری
ہم چال چلن ٹھیک ہی رکھتے تو ہیں لیکن
گھٹتی نہیں اس قید کی میعاد ہماری
بیچ صحرا میں اپنا گھر نکلا
کیسا سودا ہمارے سر نکلا
جب سے آباد اس کی چاہت ہے
دل سے دنیا کا سارا ڈر نکلا
وہ بھی رہنے لگا ہے آنکھوں میں
عین پانی میں اس کا گھر نکلا