مُرجھائے ہوئے پھول ہیں گلدان میں صاحب
گر آپ کہیں پھینک دوں دالان میں صاحب
بل کھاتا ہوا رستہ ہے اور سانس کی تکلیف
گھر اس پہ مِرا گاؤں کے ڈھلوان میں صاحب
اس واسطے حیرت سے اسے دیکھ رہا ہوں
اک پھول کھلا، پھول بھی چٹان میں صاحب
مُرجھائے ہوئے پھول ہیں گلدان میں صاحب
گر آپ کہیں پھینک دوں دالان میں صاحب
بل کھاتا ہوا رستہ ہے اور سانس کی تکلیف
گھر اس پہ مِرا گاؤں کے ڈھلوان میں صاحب
اس واسطے حیرت سے اسے دیکھ رہا ہوں
اک پھول کھلا، پھول بھی چٹان میں صاحب
زمینِ دل میں محبت کی فصل بوئی گئی
سو اب کی بارِ مصیبت کی فصل بوئی گئی
چلیں تو پیروں کے چھالے بھی بول اٹھتے ہیں
سفر میں جیسے مشقت کی فصل بوئی گئی
گِلا زمیں سے کروں کیا کہ آسمان پہ بھی
مِرے جنم پہ شکایت کی فصل بوئی گئی
لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے
کسی نے کیوں نہیں سوچا شجر گراتے ہوئے
یہ زندگی تھی جو دھتکارتی رہی مجھ کو
میں بات کرتا رہا اس سے مسکراتے ہوئے
بدن تھا چور مرا ہجر کی مشقت سے
سو نیند آئی مجھے درد کو سلاتے ہوئے
ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے
مرا یقین کرو بے شمار پانی ہے
کہ پیاس بجھ نہیں پائی ہے اس سے پیاسوں کی
اسی لیے تو بہت شرمسار پانی ہے
بجھے کچھ ایسے ندی میں چراغ بہتے ہوئے
ہوائیں ہنسنے لگیں سوگوار پانی ہے
خدا کے گھر کو میں اور اچھا بنا رہا ہوں
کہ اس کے آنگن میں سبز پودے لگا رہا ہوں
یہ ایک مسجد ہے، اور پرانی بنی ہوئی ہے
میں جس میں بیٹھا خدا کو دُکھڑے سنا رہا ہوں
ذرا سا ٹھہرو کہ رُوح پھُونکوں گا اس میں اپنی
ابھی تو مُورت میں اپنے جیسی بنا رہا ہوں
اب کہاں جاؤں گا اٹھ کر میں یہیں رہنے دے
وحشت خانہ بدوشی تو کہیں رہنے دے
ہو گئی شاہ کو اب مات کہ میں کہتا رہا
ارے رہنے دے پیادے کو وہیں رہنے دے
لے کے جا سکتا ہے تو سر سے مِرا چرخ کہن
پر مِرے پیروں تلے میری زمیں رہنے دے