Showing posts with label احمد عرفان. Show all posts
Showing posts with label احمد عرفان. Show all posts

Tuesday, 19 October 2021

مرجھائے ہوئے پھول ہیں گلدان میں صاحب

 مُرجھائے ہوئے پھول ہیں گلدان میں صاحب

گر آپ کہیں پھینک دوں دالان میں صاحب

بل کھاتا ہوا رستہ ہے اور سانس کی تکلیف

گھر اس پہ مِرا گاؤں کے ڈھلوان میں صاحب

اس واسطے حیرت سے اسے دیکھ رہا ہوں

اک پھول کھلا، پھول بھی چٹان میں صاحب

Sunday, 23 May 2021

زمین دل میں محبت کی فصل بوئی گئی

 زمینِ دل میں محبت کی فصل بوئی گئی

سو اب کی بارِ مصیبت کی فصل بوئی گئی

چلیں تو پیروں کے چھالے بھی بول اٹھتے ہیں

سفر میں جیسے مشقت کی فصل بوئی گئی

گِلا زمیں سے کروں کیا کہ آسمان پہ بھی

مِرے جنم پہ شکایت کی فصل بوئی گئی

Saturday, 22 May 2021

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے

 لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے

کسی نے کیوں نہیں سوچا شجر گراتے ہوئے

یہ زندگی تھی جو دھتکارتی رہی مجھ کو

میں بات کرتا رہا اس سے مسکراتے ہوئے

بدن تھا چور مرا ہجر کی مشقت سے

سو نیند آئی مجھے درد کو سلاتے ہوئے

Friday, 21 May 2021

ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے

 ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے

مرا یقین کرو بے شمار پانی ہے

کہ پیاس بجھ نہیں پائی ہے اس سے پیاسوں کی

اسی لیے تو بہت شرمسار پانی ہے

بجھے کچھ ایسے ندی میں چراغ بہتے ہوئے

ہوائیں ہنسنے لگیں سوگوار پانی ہے

Monday, 1 March 2021

خدا کے گھر کو میں اور اچھا بنا رہا ہوں

 خدا کے گھر کو میں اور اچھا بنا رہا ہوں

کہ اس کے آنگن میں سبز پودے لگا رہا ہوں

یہ ایک مسجد ہے، اور پرانی بنی ہوئی ہے

میں جس میں بیٹھا خدا کو دُکھڑے سنا رہا ہوں

ذرا سا ٹھہرو کہ رُوح پھُونکوں گا اس میں اپنی

ابھی تو مُورت میں اپنے جیسی بنا رہا ہوں

Sunday, 28 February 2021

اب کہاں جاؤں گا اٹھ کر میں یہیں رہنے دے

 اب کہاں جاؤں گا اٹھ کر میں یہیں رہنے دے

وحشت خانہ بدوشی تو کہیں رہنے دے

ہو گئی شاہ کو اب مات کہ میں کہتا رہا

ارے رہنے دے پیادے کو وہیں رہنے دے

لے کے جا سکتا ہے تو سر سے مِرا چرخ کہن

پر مِرے پیروں تلے میری زمیں رہنے دے