عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکارؐ کا مہمان مدینے میں رہے
یوں ادا کرتے ہیں عّشّاق محبت کی نماز
سجدہ کعبے میں ہو اور دھیان مدینے میں رہے
اللہ، اللہ، سر افروزئ صحرائے حجاز
ساری مخلوق کا سلطانؐ مدینے میں رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
بن کے سرکارؐ کا مہمان مدینے میں رہے
یوں ادا کرتے ہیں عّشّاق محبت کی نماز
سجدہ کعبے میں ہو اور دھیان مدینے میں رہے
اللہ، اللہ، سر افروزئ صحرائے حجاز
ساری مخلوق کا سلطانؐ مدینے میں رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں منوّر ہے یہ دل غارِ حِرا ہو جیسے
اُس کے اندر کوئی مہتاب رہا ہو جیسے
گُنبدِ سبز ہے یوں تازہ بہ تازہ ہر آن
ذہن میں کوئی نیا پُھول کِھلا ہو جیسے
دلِ آوارہ کو بے ساختہ آیا ہے قرار
چند گھڑیاں تِری صُحبت میں رہا ہو جیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
جہانِ عشق و محبت ہے آستانِ حسینؑ
نشانِ حق و صداقت ہے آستانِ حسینؑ
حدیثِ صدق و صفا، داستانِ صبر و رضا
بنائے شوقِ شہادت ہے آستانِ حسینؑ
جہاں میں مسکن و ماوا ہے اہلِ ایماں کا
دیارِ حُسنِ عقیدت ہے آستانِ حسینؑ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ایسا کوئی محبوب نہ ہو گا نہ کہیں ہے
بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے
مِلتا نہیں کیا کیا، دو جہاں کو تِرے در سے
اک لفظ نہیں ہے، کہ تِرے لب پہ نہیں ہے
تُو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسرٰی
تیرے لیے دو چار قدم عرشِ بریں ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اس خالق کونین کی مرضی بھی ادھر ہے
اے سید ابرارﷺ رضا تیری جدھر ہے
جنت کی ضرورت ہے نہ حوروں کی طلب ہے
کونین کے دولہاﷺ کی طرف میری نظر ہے
جس گھر میں قدم رکھتے تھے جبریل بھی ڈر کر
اے جانِ دو عالمﷺ وہ تمہارا ہی تو گھر ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
جہانِ عشق و محبت ہے آستانِ حسین
نشانِ حق و صداقت ہے آستانِ حسین
حدیثِ صدق و صفا، داستانِ صبر و رضا
بنائے شوقِ شہادت ہے آستانِ حسین
جہاں میں مسکن و ماوا ہے اہلِ ایماں کا
دیارِ حسنِ عقیدت ہے آستانِ حسین
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کہیں جس کو دوائے دردِ ہِجراں یا رسول اللہؐ
دِکھانا مجھ کو بھی وہ رُوئے تاباں یا رسول اللہ
کرم یا رحمت للعالمین یا شافعِ محشرﷺ
کہ ہے خالی عمل میرا داماں یا رسول اللہ
سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشرِیف لاتے ہیں
مِرے گھر میں بھی ہو جائے چراغاں یا رسول اللہ
دل کو رہینِ لذتِ درماں نہ کر سکے
ہم ان سے بھی شکایتِ ہجراں نہ کر سکے
اس طرح پھونک میرا گلستانِ آرزو
پھر کوئی تیرے بعد اسے ویراں نہ کر سکے
مہنگی تھی اس قدر تِرے جلووں کی روشنی
ہم اپنی ایک شام فروزاں نہ کر سکے