Showing posts with label ولی عزلت. Show all posts
Showing posts with label ولی عزلت. Show all posts

Tuesday, 11 August 2026

اسیری بے مزا لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے

 اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے

قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے

مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے

کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے

اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ

ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے

Sunday, 10 November 2024

اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے

 اسیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیاد کیا کیجے

قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے

مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے

کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے

اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ

ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے

Saturday, 9 November 2024

یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے

 یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے

گل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہے

زاہد نے عبادت چھوڑ اس زلف سے الجھا ہے

تسبیح کی شیخی گئی، زنار کی باری ہے

اس کاکل مشکیں کی بو ہوئی ہے پریشاں آ

سب شہر ختن لٹ گئے تاتار کی باری ہے

Tuesday, 11 June 2024

تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب

 تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب

جس طرح ہو جا صبا سے کاکلِ مُشکیں خراب

جوں نسیم صبح غُنچے گُل کے سب برباد دے

سرد مہری سے بُتوں کی ہیں دل رنگیں خراب

بے دماغی مت کر اے ظالم کہ جوں موج اور حباب

دل مِرا کر دے ہے پل میں ابروئے پر چیں خراب

Monday, 10 June 2024

پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہو

 پھر آئی فصلِ گُل اے یار دیکھیے کیا ہو

جنوں کا دل میں چُبھا خار دیکھیے کیا ہو

سب آشنا ہوئے اس کے بچھڑتے بیگانے

ہوئی ہے بے کسی اب یار دیکھیے کیا ہو

چمن میں باندھنے کو آشیانۂ بلبل

گُلوں نے جمع کیے خار دیکھیے کیا ہو