اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے
قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے
مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے
کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے
اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ
ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے
اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے
قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے
مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے
کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے
اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ
ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے
اسیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیاد کیا کیجے
قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے
مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے
کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے
اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ
ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے
یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے
گل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہے
زاہد نے عبادت چھوڑ اس زلف سے الجھا ہے
تسبیح کی شیخی گئی، زنار کی باری ہے
اس کاکل مشکیں کی بو ہوئی ہے پریشاں آ
سب شہر ختن لٹ گئے تاتار کی باری ہے
تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب
جس طرح ہو جا صبا سے کاکلِ مُشکیں خراب
جوں نسیم صبح غُنچے گُل کے سب برباد دے
سرد مہری سے بُتوں کی ہیں دل رنگیں خراب
بے دماغی مت کر اے ظالم کہ جوں موج اور حباب
دل مِرا کر دے ہے پل میں ابروئے پر چیں خراب
پھر آئی فصلِ گُل اے یار دیکھیے کیا ہو
جنوں کا دل میں چُبھا خار دیکھیے کیا ہو
سب آشنا ہوئے اس کے بچھڑتے بیگانے
ہوئی ہے بے کسی اب یار دیکھیے کیا ہو
چمن میں باندھنے کو آشیانۂ بلبل
گُلوں نے جمع کیے خار دیکھیے کیا ہو