Showing posts with label پروین ام مشتاق. Show all posts
Showing posts with label پروین ام مشتاق. Show all posts

Wednesday, 9 November 2022

بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں

 بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں

یہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں

جس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیں

عقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں

دل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیں

گویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں

Sunday, 6 November 2022

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

 مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

ساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد

مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل

برسے گر پانی کی جا آبِ بقا میرے بعد

چاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتم

ماتمی رنگ میں ہے زلفِ رسا میرے بعد

Saturday, 5 November 2022

جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

 جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق

قابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق

کیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوق

بلبل بے تاب کو ہرزہ سرائی کا عشق

پڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھا

واعظ نا فہم کو ہرزہ سرائی کا عشق

Monday, 2 May 2022

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی

دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی

وہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئی

صبح کوئے یار میں بادِ صبا پکڑی گئی

یعنی غیبت میں گلوں کی مبتلا پکڑی گئی

دل چڑھا مشکل سے طاق ابروئے خمدار پر

سو جگہ رستہ میں جب زلف رسا پکڑی گئی

Monday, 25 April 2022

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

میری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا

آغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غبار

اگلے برس اسے خط گلزار دیکھنا

جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئی

منظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا