بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں
یہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں
جس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیں
عقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں
دل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیں
گویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں
بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں
یہ بھی ہے کوئی بات کبھی ہاں کبھی نہیں
جس نے کچھ احتیاط جوانی میں کی نہیں
عقل سلیم کہتی ہے وہ آدمی نہیں
دل مانگو تو جواب ہے ان کا ابھی نہیں
گویا ابھی نہیں کا ہے مطلب کبھی نہیں
مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد
ساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد
مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل
برسے گر پانی کی جا آبِ بقا میرے بعد
چاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتم
ماتمی رنگ میں ہے زلفِ رسا میرے بعد
جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق
قابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق
کیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوق
بلبل بے تاب کو ہرزہ سرائی کا عشق
پڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھا
واعظ نا فہم کو ہرزہ سرائی کا عشق
دل کی چوری میں جو چشم سرمہ سا پکڑی گئی
وہ تھا چین زلف میں یہ بے خطا پکڑی گئی
صبح کوئے یار میں بادِ صبا پکڑی گئی
یعنی غیبت میں گلوں کی مبتلا پکڑی گئی
دل چڑھا مشکل سے طاق ابروئے خمدار پر
سو جگہ رستہ میں جب زلف رسا پکڑی گئی
محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا
میری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا
آغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غبار
اگلے برس اسے خط گلزار دیکھنا
جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئی
منظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا