Thursday, 22 October 2026

پھر اک نئی محبت کی ابتدا ہوتی ہے

 جب بھی تم سامنے آتے ہو

اب کی ساری خزاں زدہ گھڑیاں

گزری بہاروں میں ڈھل سی جاتی ہیں

وقت کی آغوش میں سوئی ہوئی وفائیں

پِھر سے مچل سی جاتی ہیں

اک بہکا سا خیال دریچوں پہ دستک دیئے بغیر

دِل کے آنگن میں آ جاتا ہے

پِھر سے دبی ہوئی سسکیوں کو بہلایا جاتا ہے

اس وحشت زدا آنگن کے اک کونے میں

جذبوں کے طاق پر پڑا

گل کیا ہوا تیری یادوں کا چراغ

پِھر آتش عشق سے جلنے لگتا ہے

پِھر میرا تصور تیرے تصور میں ڈھلنے لگتا ہے

جب بھی تم سامنے آتے ہو

تیرے پر لطف لہجے کی مسیحائی سے

شہر خموشاں میں دفن میرے جوان جذبات کو

پِھر سے حیات نو عطا ہوتی ہے

پِھر اک نئی محبت کی ابتدا ہوتی ہے


انجم عزیز عباس

No comments:

Post a Comment