Showing posts with label ریحان اعظمی. Show all posts
Showing posts with label ریحان اعظمی. Show all posts

Monday, 24 July 2023

کڑیل جواں کی لاش پہ آئے حسین جب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


کڑیل جواں کی لاش پہ آئے حسینؑ جب​

قلبِ حسینؑ چاک ہُوا درد کے سبب​

کہتے تھے بے وطن کا سہارا نہیں ہے اب​

دیکھا سُوئے فُرات پکارے یہ شہؑ کے لب​

عباسؑ سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے​

اکبرؑ کا لاشہ اُٹھ نہیں سکتا حسینؑ سے

Sunday, 23 July 2023

پیاسے پہ عجب وقت قیامت کا پڑا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


پیاسے پہ عجب وقت قیامت کا پڑا ہے​

اک لاش ابھی لایا ہے، اک لینے چلا ہے​

یہ حُر کا ہے، وہ بھائی کا، یہ بیٹے کا لاشہ​

زہراؑ کا پسر گنجِ شہیداں میں کھڑا ہے​

زینبؑ تِری چادر کا خدا حافظ و ناصر​

لشکر نہ علم اور نہ علمدار بچا ہے

Saturday, 13 August 2022

خوشبو بن کر مہک رہا ہے میرا پاکستان

 ملی/قومی گیت/نغمہ


خوشبو بن کر مہک رہا ہے میرا پاکستان

ہم اس کے رکھوالے، یہ ہم سب کی شان

خوشبو بن کر مہک رہا ہے میرا پاکستان


جلتی دھوپ میں اس کا پرچم ہم پر یوں لہرایا

سوہنی دھرتی کے آنچل کا جیسے سر پر سایا

اللہ کا احسان میرا پاکستان

Sunday, 1 August 2021

دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا

 دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا​

دو گھڑی مل بیٹھنے کا سلسلہ اچھا لگا​

کوئی خوبی تو نہ تھی مجھ میں کہ چاہا جاؤں میں​

پھر نجانے کیوں اسے چہرہ مِرا اچھا لگا​

رات ساری جاگنے کے بعد مجھ کو صبحدم​

نیم باز آنکھوں سے اس کا دیکھنا اچھا لگا

Monday, 22 February 2021

تھی ہم کلام شجر سے دعا کے لہجے میں

 تھی ہمکلام شجر سے، دعا کے لہجے میں ​

عجیب کرب تھا، بادِ صبا کے لہجے میں​

وہ شامِ ہجر وہ، دھڑکن دلِ شکستہ کی​

چراغ کرتا تھا باتیں، ہوا کے لہجے میں​

میری انا کا سفینہ، ڈبو کے ساحل پر​

بلا کا طنز تھا، سیلِ بلا کے لہجے میں​

Friday, 16 October 2020

پہنچے کہاں سے کوئی تیرے خد و خال تک

 پہنچے کہاں سے کوئی تیرے خدوخال تک

روشن نہ ہو سکے جہاں شمعِ خیال تک

ہم وہ الم نصیب کہ خواہش کے باوجود

خوشیاں تو کیا ملا نہیں حرفِ ملال تک

اب طائرِ خیال قفس سے نکل پڑا

باقی اڑان اور ہے اس خوش جمال تک

Wednesday, 9 September 2020

بڑا عظیم تھا صدمہ علی بہت روئے

بی بی سیدہ فاطمۃ الزہرہ کے سانحہ ارتحال پر

بڑا عظیم تھا صدمہ علی بہت روئے
بنا کے تربت زہرہ، علی بہت روئے
بڑا عظیم تھا صدمہ علی بہت روئے

نہ روئے ہاتھ کے چھالوں کو دیکھ کر مولا
نہ روۓ گھر میں رہا تین روز تک فاقہ
شکستہ پہلو جو دیکھا، علی بہت روئے
بڑا عظیم تھا صدمہ علی بہت روئے

بنتِ خیرالبشر سیدہ آپ ہیں

منقبت بر خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرہ

بنتِ خیرالبشرؐ، سیدہ آپ ہیں
رب کی نورِ نظر، سیدہ آپ ہیں
جس کے قبضے میں جنت کی جاگیر ہے
بات ہے مختصر، سیدہ آپ ہیں
باپ رحمت ہے سارے جہاں کے لیے
اور رحمت کا در، سیدہ آپ ہیں

Tuesday, 8 September 2020

نبی کےعشق میں یہ دل اگر بیمار ہو جائے

نبیﷺ کےعشق میں یہ دل اگر بیمار ہو جائے
میری بخشش کا ساماں خود میرا سرکار ہو جائے
میں سمجھوں گا کہ مجھ کو مل گئی ہے خواب کی تعبیر
جو اک دن خواب میں سرکارﷺ کا دیدار ہو جائے
کسی دن ایک لمحے کو جو ان کی یاد نہ آئے
تو مجھ پہ سانس بھی لینا بہت دشوار ہو جائے

Monday, 7 September 2020

کب ہو گا تیری غیبت کبریٰ کا اختتام

بر آمدِ امام مہدی

کب ہو گا تیری غَیبتِ کبریٰ کا اختتام
کب تک لکھیں عریضوں میں مولا تمہیں سلام
اب گردشِ زمانہ ستانے لگی ہمیں
وقتِ مدد ہے آئیے فریاد یا امام
خود دیکھ لیجیئے، آپ پہ کتنا یقین ہے
لیتے ہیں اٹھتے بیٹھتے ہم آپ ہی کا نام

Sunday, 6 September 2020

ریحان لب کشا جو ہوا بزم شاہ میں

ریحان لب کشأ جو ہوا بزمِ شاہ میں
عالم تمام ڈوب گایا واہ، واہ، میں
اے شیخ کیوں نہ کہہ دیا کعبے کو دیکھ کر
کافر سا لگ رہا ہے لباسِ سیاہ میں
تھے زد پہ دشمنوں کی محبانِ اہلِ بیت
مولا نے بڑھ کے لے لیا اپنی پناہ میں

کتاب عزم شجاعت ہیں سید سجاد

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

کتابِ عزمِ شجاعت ہیں سیدِ سجاد
خدائے صبر کی آیت ہیں سید سجاد
وہ جس کے سجدوں کو سجدہ نماز کرتی ہے
وقارِ شانِ عبادت ہیں سید سجاد
بہار یہ ابوطالب کے گھر میں چوتھی ہے
نبیﷺ کے دیں کی علامت ہیں سید سجاد

Saturday, 5 September 2020

باندھ کر سر پر کفن رن میں بہتر آ گئے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

باندھ کر سر پر کفن رن میں بہتّر آ گئے
راہ جنت کی دکھانے یعنی رہبر آ گئے
یہ بھی کیا انصاف تھا دشتِ بلا تو ہی بتا
ایک پیاسے کے لیے کتنے ستمگر آ گئے
جب کوئی باقی بچا نہ لشکرِ شبیر میں
چھوڑ کر جھولے کو اپنے رن میں اصغر آ گئے

جب قلم لکھنے لگا حضرت عباس کا نام

منقبت بر حضرت عباس علمبردار

جب قلم لکھنے لگا حضرتِ عباس کا نام
پھول بن بن کے کھلا حضرتِ عباس کا نام
جب بھی آلودہ فضاؤں میں کھلے ان کا علم
پاک کرتا ہے فضا حضرتِ عباس کا نام
یوں لگا گھر میں میرے چاند اتر آیا ہے
میں جو دہراتا رہا حضرتِ عباس کا نام

Friday, 4 September 2020

اب تو بس ایک کام شہر میں ہے

اب تو بس ایک کام شہر میں ہے
طے شدہ قتلِ عام شہر میں ہے
بہہ رہا ہے گلی گلی میں لہو
بے خطا انتقام شہر میں ہے
بند بازار ہے محبت کا
ماتمی اژدھام شہر میں ہے

حیدر کی ولادت کے سبب کہنا پڑے گا

منقبت مولا علی شیر خدا

حیدر کی ولادت کے سبب کہنا پڑے گا
آباد ہوا خانۂ رب، کہنا پڑے گا
ہم قبر میں کہہ دیں گے فقط یاعلی مولا
تم کو تو حسب اور نسب کہنا پڑے گا
تم سب کو بہادر کہو، پر یہ تو بتاؤ
ہے شیرِ خدا کس کا لقب، کہنا پڑے گا

صدائے کربلا ہے اور میں ہوں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

صدائے کربلا ہے اور میں ہوں
مسلسل رابطہ ہے اور میں ہوں
فرشتو! آؤ بیٹھو، سن کے جانا
حسینی تذکرہ ہے اور میں ہوں
لحد میں تم مجھے تنہا نہ سمجھو
میرا مشکل کشاؑ ہے اور میں ہوں

تختی مرے مکاں پہ مرے نام کی لگی​

تختی مِرے مکاں پہ مِرے نام کی لگی​
پھر ایسی بھیڑ گردشِ ایام کی لگی​
اسکی نگاہِ برق سے بھڑکی جو سینے میں​
وہ آگ صبح تک نہ بجھی شام کی لگی​
مجھ کو کوئی بلاتا نہیں میرے نام سے​
تہمت عجیب مجھ پہ تِرے نام کی لگی​

Thursday, 27 April 2017

کتنے احسان فروشوں کا بھرم توڑ دیا

کتنے احسان فروشوں کا بھرم توڑ دیا
دے کے خیراتِ سخن ہم نے قلم توڑ دیا
ہم نے احرامِ محبت کبھی بدلا ہی نہیں
تم نے موجود جو تھا دل میں حرم توڑ دیا
رفتہ رفتہ مِرے احباب ہوئے دشمنِ جاں
تیشۂ زر نے بھروسے پہ ستم توڑ دیا

کچھ تو دعائے نیم شبی کا اثر ہوا

کچھ تو دعائے نیم شبی کا اثر ہوا
روشن کسی کے آنے سے دل کا نگر ہوا
فرقت کی شب نے جس کو جلایا تھا ایک عمر
وہ اک دِیا 🪔 بھی آج سپردِ سحر ہوا
جس کو یہ زعم تھا کہ بھلا دے گا وہ مجھے
اک پل مِرے بغیر نہ اس سے بسر ہوا