عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کڑیل جواں کی لاش پہ آئے حسینؑ جب
قلبِ حسینؑ چاک ہُوا درد کے سبب
کہتے تھے بے وطن کا سہارا نہیں ہے اب
دیکھا سُوئے فُرات پکارے یہ شہؑ کے لب
عباسؑ سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبرؑ کا لاشہ اُٹھ نہیں سکتا حسینؑ سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کڑیل جواں کی لاش پہ آئے حسینؑ جب
قلبِ حسینؑ چاک ہُوا درد کے سبب
کہتے تھے بے وطن کا سہارا نہیں ہے اب
دیکھا سُوئے فُرات پکارے یہ شہؑ کے لب
عباسؑ سوتے کیا ہو ترائی میں چین سے
اکبرؑ کا لاشہ اُٹھ نہیں سکتا حسینؑ سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
پیاسے پہ عجب وقت قیامت کا پڑا ہے
اک لاش ابھی لایا ہے، اک لینے چلا ہے
یہ حُر کا ہے، وہ بھائی کا، یہ بیٹے کا لاشہ
زہراؑ کا پسر گنجِ شہیداں میں کھڑا ہے
زینبؑ تِری چادر کا خدا حافظ و ناصر
لشکر نہ علم اور نہ علمدار بچا ہے
ملی/قومی گیت/نغمہ
خوشبو بن کر مہک رہا ہے میرا پاکستان
ہم اس کے رکھوالے، یہ ہم سب کی شان
خوشبو بن کر مہک رہا ہے میرا پاکستان
جلتی دھوپ میں اس کا پرچم ہم پر یوں لہرایا
سوہنی دھرتی کے آنچل کا جیسے سر پر سایا
اللہ کا احسان میرا پاکستان
دل جلوں سے دل جلوں کا رابطہ اچھا لگا
دو گھڑی مل بیٹھنے کا سلسلہ اچھا لگا
کوئی خوبی تو نہ تھی مجھ میں کہ چاہا جاؤں میں
پھر نجانے کیوں اسے چہرہ مِرا اچھا لگا
رات ساری جاگنے کے بعد مجھ کو صبحدم
نیم باز آنکھوں سے اس کا دیکھنا اچھا لگا
تھی ہمکلام شجر سے، دعا کے لہجے میں
عجیب کرب تھا، بادِ صبا کے لہجے میں
وہ شامِ ہجر وہ، دھڑکن دلِ شکستہ کی
چراغ کرتا تھا باتیں، ہوا کے لہجے میں
میری انا کا سفینہ، ڈبو کے ساحل پر
بلا کا طنز تھا، سیلِ بلا کے لہجے میں
پہنچے کہاں سے کوئی تیرے خدوخال تک
روشن نہ ہو سکے جہاں شمعِ خیال تک
ہم وہ الم نصیب کہ خواہش کے باوجود
خوشیاں تو کیا ملا نہیں حرفِ ملال تک
اب طائرِ خیال قفس سے نکل پڑا
باقی اڑان اور ہے اس خوش جمال تک