Showing posts with label انور جمال فاروقی. Show all posts
Showing posts with label انور جمال فاروقی. Show all posts

Monday, 19 December 2016

اعتراف شکست یہ کھیل میں جیت سکتا تھا

اعترافِ شکست

یہ کھیل میں جیت سکتا تھا
مگر کیا کرتا
حکم کا ایکا
اس مرتبہ بھی
دوسری طرف تھا

انور جمال فاروقی

ماضی بھی پیاز کی طرح ہوتا ہے

ماضی

ماضی بھی 
پیاز کی طرح ہوتا ہے
ایک پرت کھولو
تو 
آنکھ سے ایک قطرہ ضرور ڈھلک
جاتا ہے

انور جمال فاروقی

CONFESSION اپنے ماضی کو ہم نے حال میں سمویا تو ہے

CONFESSION

اپنے ماضی کو ہم نے
حال میں سمویا تو ہے 
لیکن
ہر زخم یوں نمایاں ہے
جیسے
مخمل میں ٹاٹ کا پیوند

آتش چنار کے نام چنار قطار در قطار سلگتے رہے

آتشِ چنار کے نام

ہم کاکل و لب کے قصیدے لکھتے رہے
چنار قطار در قطار سلگتے رہے
چشمِ فلک نے کب یہ دیکھا تھا
برف خانوں میں آگ لگتے ہوئے
کھلے سر بیبیوں کو بلکتے ہوئے

Saturday, 15 March 2014

برسوں کے بعد کل اپنا خیال سا ہوا

برسوں کے بعد کل اپنا خیال سا ہوا
پھر دیکھا جو آئینہ تو ملال سا ہوا
برگِ آوارہ بھی کئی میری طرح تھے دربدر
تنہا نہں ہوں میں شہر میں یہ احتمال سا ہوا
وہ رو رہا تھا میرے خد و خال دیکھ کر
اور میں بھی ٹوٹ گیا جب وہ نڈھال سا ہوا

میرے لفظ معتبر ٹھہریں تیری یادوں کی تابش میں

میرے لفظ معتبر ٹھہریں تیری یادوں کی تابش میں
میں گیلے حرف لے کر جب بھی نکلوں تیز بارش میں
تمہیں بھی یاد تو ہو گا، وہ ایک معصوم سا لڑکا
جو جنگل تک چلا آیا تھا، اِک تِتلی کی خواہش میں
کبھی جب تم گئے رستوں پہ لوٹو گے تو سمجھو گے
کہ کیسے زندہ رہتا ہے کوئی سانسوں کی سازش میں

Thursday, 30 January 2014

نکلے تیری تلاش میں پھر در بدر رہے

نکلے تیری تلاش میں پھر در بدر رہے
ہم خانہ بدوش لوگ تھے، دریوزہ گر رہے
الجھے ہیں کچھ اِس طرح غمِ روزگار میں
گردشِ ماہ وسال سے بھی بے خبر رہے
ہر شام کے نصیب میں اِک سفاک رات ہے
ہر شام یہ سوچ کر ہم اپنے گھر رہے

معجزہ ہمارے عہد میں بھی ہو گیا ہے

معجزہ ہمارے عہد میں بھی ہو گیا ہے
وہ اپنا عکس ہمارے آئینوں میں بو گیا ہے
وہی سمجھے گی ماں، میرے کرب کی کہانی
جس کا لاڈلہ بچہ اچانک کہیں کھو گیا ہے
نہ کوئی مطرب و رباب نہ کوئی راگ درباری
فن کار ہمارے شہر کا شاید سو گیا ہے

پانیوں کے سفر میں پتوار نہیں‌ بدلے جاتے

پانیوں کے سفر میں پتوار نہیں‌ بدلے جاتے
گرمئ بازار میں زیست کے ادوار نہیں بدلے جاتے
ہوائے شہرِ خُوباں سے کہو ہوش کرے
موسم بدل جائے تو اشجار نہیں بدلے جاتے
تیری مُسکان کا پرتَو ہیں آنکھیں تیری
دشمنِ جاں رَتجگوں کے آثار نہیں بدلے جاتے

پرسہ دیتی ہے مجھے سرمئ شام بھی گاہے گاہے

پُرسہ دیتی ہے مجھے سرمئ شام بھی گاہے گاہے
ہوا لکھتی ہے پیڑوں پہ تیرا نام بھی گاہے گاہے
رقص کرتی ہوئی خوشیوں کا تناسب کم ہے
ساتھ چلتے ہیں گردشِ ایام بھی گاہے گاہے
کچھ تو بادل بھی میرے شہر کا نصیبہ ٹھہرے
اور وہ چاند آتا ہے لبِ بام بھی گاہے گاہے