برسوں کے بعد کل اپنا خیال سا ہوا
پھر دیکھا جو آئینہ تو ملال سا ہوا
برگِ آوارہ بھی کئی میری طرح تھے دربدر
تنہا نہں ہوں میں شہر میں یہ احتمال سا ہوا
وہ رو رہا تھا میرے خد و خال دیکھ کر
اور میں بھی ٹوٹ گیا جب وہ نڈھال سا ہوا
میرے لفظ معتبر ٹھہریں تیری یادوں کی تابش میں
میں گیلے حرف لے کر جب بھی نکلوں تیز بارش میں
تمہیں بھی یاد تو ہو گا، وہ ایک معصوم سا لڑکا
جو جنگل تک چلا آیا تھا، اِک تِتلی کی خواہش میں
کبھی جب تم گئے رستوں پہ لوٹو گے تو سمجھو گے
کہ کیسے زندہ رہتا ہے کوئی سانسوں کی سازش میں
نکلے تیری تلاش میں پھر در بدر رہے
ہم خانہ بدوش لوگ تھے، دریوزہ گر رہے
الجھے ہیں کچھ اِس طرح غمِ روزگار میں
گردشِ ماہ وسال سے بھی بے خبر رہے
ہر شام کے نصیب میں اِک سفاک رات ہے
ہر شام یہ سوچ کر ہم اپنے گھر رہے
معجزہ ہمارے عہد میں بھی ہو گیا ہے
وہ اپنا عکس ہمارے آئینوں میں بو گیا ہے
وہی سمجھے گی ماں، میرے کرب کی کہانی
جس کا لاڈلہ بچہ اچانک کہیں کھو گیا ہے
نہ کوئی مطرب و رباب نہ کوئی راگ درباری
فن کار ہمارے شہر کا شاید سو گیا ہے
پانیوں کے سفر میں پتوار نہیں بدلے جاتے
گرمئ بازار میں زیست کے ادوار نہیں بدلے جاتے
ہوائے شہرِ خُوباں سے کہو ہوش کرے
موسم بدل جائے تو اشجار نہیں بدلے جاتے
تیری مُسکان کا پرتَو ہیں آنکھیں تیری
دشمنِ جاں رَتجگوں کے آثار نہیں بدلے جاتے
پُرسہ دیتی ہے مجھے سرمئ شام بھی گاہے گاہے
ہوا لکھتی ہے پیڑوں پہ تیرا نام بھی گاہے گاہے
رقص کرتی ہوئی خوشیوں کا تناسب کم ہے
ساتھ چلتے ہیں گردشِ ایام بھی گاہے گاہے
کچھ تو بادل بھی میرے شہر کا نصیبہ ٹھہرے
اور وہ چاند آتا ہے لبِ بام بھی گاہے گاہے