اے چاند کی کرنو جاؤ نا
تم اس کو چھو کر آؤ نا
وہ کب کب کیا کیا کرتا ہے
وہ جاگتا ہے یا سوتا ہے؟
وہ کس سے باتیں کرتا ہے
وہ شام کو کیسا لگتا ہے
اے چاند کی کرنو جاؤ نا
تم اس کو چھو کر آؤ نا
وہ کب کب کیا کیا کرتا ہے
وہ جاگتا ہے یا سوتا ہے؟
وہ کس سے باتیں کرتا ہے
وہ شام کو کیسا لگتا ہے
مجھے کیسے یقین آئے
مجھے کیسے یقین آئے
محبت تم نے بھی کی ہے
تمہیں جب بھی کبھی دیکھا
سدا خوش باش ہی پایا
ہمیشہ ہنستے رہتے ہو
بے ربط سی تحریر عبارت نہیں ہوتی
ہاتھوں کی لکیروں میں تو قسمت نہیں ہوتی
سجدے میں دکھاوہ ہو تو سجدہ نہیں ہوتا
گردنوں کو جھکانے سے عبادت نہیں ہوتی
وہ شخص محبت سے ہمیشہ رہا محروم
اوروں کے لیے جس میں محبت نہیں ہوتی
کبھی تمہارا اُداس دل ہو تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
کبھی کسی کی کمی لگے تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
تمہارے اپنے جو دُور بیٹھے تمہاری نظریں اُتارتے ہیں
جو تم نہ ان کو قریب پاؤ تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
کبھی جو تنہائی میں جو کسی کی صدائیں تم کو سُنائی دیں
تو چُپکے چُپکے سے بند آنکھوں قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
ہر بار مجھے زخمِ جدائی نہ دیا کر
اگر تُو نہیں میرا تو دکھائی نہ دیا کر
سچ جھوٹ تیری آنکھ سے ہو جاتا ہے ظاہر
قسمیں نہ اٹھا، اتنی صفائی نہ دیا کر
معلوم ہے رہتا ہے تو اب مجھ سے گریزاں
پاس آ کے محبت کی دوھائی نہ دیا کر