Showing posts with label لبنیٰ کنول. Show all posts
Showing posts with label لبنیٰ کنول. Show all posts

Saturday, 9 July 2022

اے چاند کی کرنو جاؤ نا تم اس کو چھو کر آؤ نا

 اے چاند کی کرنو جاؤ نا

تم اس کو چھو کر آؤ نا

وہ کب کب کیا کیا کرتا ہے

وہ جاگتا ہے یا سوتا ہے؟

وہ کس سے باتیں کرتا ہے

وہ شام کو کیسا لگتا ہے

Tuesday, 19 April 2022

مجھے کیسے یقین آئے محبت تم نے بھی کی ہے

 مجھے کیسے یقین آئے


مجھے کیسے یقین آئے

محبت تم نے بھی کی ہے

تمہیں جب بھی کبھی دیکھا 

سدا خوش باش ہی پایا

ہمیشہ ہنستے رہتے ہو 

Saturday, 16 April 2022

بے ربط سی تحریر عبارت نہیں ہوتی

 بے ربط سی تحریر عبارت نہیں ہوتی

ہاتھوں کی لکیروں میں تو قسمت نہیں ہوتی

سجدے میں دکھاوہ  ہو تو سجدہ نہیں ہوتا

گردنوں کو جھکانے سے عبادت نہیں ہوتی

وہ شخص محبت سے ہمیشہ رہا محروم

اوروں کے لیے جس میں محبت نہیں ہوتی

Monday, 3 May 2021

کبھی تمہارا اداس دل ہو تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں

 کبھی تمہارا اُداس دل ہو تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں

کبھی کسی کی کمی لگے تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں

تمہارے اپنے جو دُور بیٹھے تمہاری نظریں اُتارتے ہیں

جو تم نہ ان کو قریب پاؤ تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں

کبھی جو تنہائی میں جو کسی کی صدائیں تم کو سُنائی دیں

تو چُپکے چُپکے سے بند آنکھوں قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں

Friday, 12 March 2021

ہر بار مجھے زخمِ جدائی نہ دیا کر

 ہر بار مجھے زخمِ جدائی نہ دیا کر

اگر تُو نہیں میرا تو دکھائی نہ دیا کر

سچ جھوٹ تیری آنکھ سے ہو جاتا ہے ظاہر

قسمیں نہ اٹھا، اتنی صفائی نہ دیا کر

معلوم ہے رہتا ہے تو اب مجھ سے گریزاں

پاس آ کے محبت کی دوھائی نہ دیا کر