تصور کا اثر بڑھ کر گلے کا ہار ہو جائے
اِدھر پردہ سرک جائے اُدھر دیدار ہو جائے
اے واعظ تُو ہی کر انصاف وہ سجدہ کا کیا کہنا
کہ جو سجدہ سراپا نقشِ پائے یار ہو جائے
مجھے محفل سے اپنی اس لیے شاید نکالا ہے
کہیں ایسا نہ ہو یہ واقفِ اسرار ہو جائے
تصور کا اثر بڑھ کر گلے کا ہار ہو جائے
اِدھر پردہ سرک جائے اُدھر دیدار ہو جائے
اے واعظ تُو ہی کر انصاف وہ سجدہ کا کیا کہنا
کہ جو سجدہ سراپا نقشِ پائے یار ہو جائے
مجھے محفل سے اپنی اس لیے شاید نکالا ہے
کہیں ایسا نہ ہو یہ واقفِ اسرار ہو جائے
بے سبب شمع کو عادت پڑ گئی جل جانے کی
بد دعا لگ گئی شاید کسی پروانے کی
بھیگی راتوں میں کسی غنچے نے دم توڑ دیا
یہ تو میّت ہے، ضرورت نہیں نہلانے کی
ضبط سے کام جو لیتا تو نہ رُسوا ہوتا
عقل ماری گئی لیلیٰ تِرے دیوانہ کی
یہ حرص و ہوس کی منڈی ہے انمول رتن بِک جاتے ہیں
محلوں کے پڑخچے اڑتے ہیں دھنوان کے دھن بک جاتے ہیں
دولت کی طرح توبہ توبہ احبابِ وطن بک جاتے ہیں
بازار عجب بازار ہے یہ رنگین چمن بک جاتے ہیں
رنگین چمن کا ذکر ہی کیا مُردوں کے کفن بک جاتے ہیں
تعویذ میں قرآں بکتا ہے، منتر بھی خریدا جاتا ہے
نہ حرم میں نہ سکوں ملتا ہے بت خانے میں
چین ملتا ہے تو ساقی تیرے مے خانے میں
جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم
کالی گھٹا ہے مست فضا ہے
جام اٹھا کر گھوم گھوم گھوم
آج انگور کی بیٹی سے محبت کر لے
شیخ صاحب کی نصیحت سے بغاوت کر لے
دل ہے آتش کدۂ غم میں پگھلنے کے لیے
شمع پیدا ہوئی کس واسطے جلنے کے لیے
اس نے دل مانگا تو میں نے کہا اے جانِ کرم
دل گیا ہے تیرے کوچے میں ٹہلنے کے لیے
جلوۂ حُور جبیں اس پہ جوانی کا غرور
ان کو جنت کی زمیں چاہیے چلنے کے لیے