Showing posts with label نازاں شولا پوری. Show all posts
Showing posts with label نازاں شولا پوری. Show all posts

Saturday, 11 November 2023

تصور کا اثر بڑھ کر گلے کا ہار ہو جائے

 تصور کا اثر بڑھ کر گلے کا ہار ہو جائے

اِدھر پردہ سرک جائے اُدھر دیدار ہو جائے

اے واعظ تُو ہی کر انصاف وہ سجدہ کا کیا کہنا

کہ جو سجدہ سراپا نقشِ پائے یار ہو جائے

مجھے محفل سے اپنی اس لیے شاید نکالا ہے

کہیں ایسا نہ ہو یہ واقفِ اسرار ہو جائے

Saturday, 7 October 2023

بے سبب شمع کو عادت پڑ گئی جل جانے کی

 بے سبب شمع کو عادت پڑ گئی جل جانے کی

بد دعا لگ گئی شاید کسی پروانے کی

بھیگی راتوں میں کسی غنچے نے دم توڑ دیا

یہ تو میّت ہے، ضرورت نہیں نہلانے کی

ضبط سے کام جو لیتا تو نہ رُسوا ہوتا

عقل ماری گئی لیلیٰ تِرے دیوانہ کی

Friday, 6 October 2023

یہ حرص و ہوس کی منڈی ہے انمول رتن بک جاتے ہیں

 یہ حرص و ہوس کی منڈی ہے انمول رتن بِک جاتے ہیں

محلوں کے پڑخچے اڑتے ہیں دھنوان کے دھن بک جاتے ہیں

دولت کی طرح توبہ توبہ احبابِ وطن بک جاتے ہیں

بازار عجب بازار ہے یہ رنگین چمن بک جاتے ہیں

رنگین چمن کا ذکر ہی کیا مُردوں کے کفن بک جاتے ہیں

تعویذ میں قرآں بکتا ہے، منتر بھی خریدا جاتا ہے

Thursday, 5 October 2023

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم

 نہ حرم میں نہ سکوں ملتا ہے بت خانے میں

چین ملتا ہے تو ساقی تیرے مے خانے میں

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم

کالی گھٹا ہے مست فضا ہے

جام اٹھا کر گھوم گھوم گھوم

آج انگور کی بیٹی سے محبت کر لے

شیخ صاحب کی نصیحت سے بغاوت کر لے

Wednesday, 4 October 2023

دل ہے آتش کدۂ غم میں پگھلنے کے لیے

 دل ہے آتش کدۂ غم میں پگھلنے کے لیے

شمع پیدا ہوئی کس واسطے جلنے کے لیے

اس نے دل مانگا تو میں نے کہا اے جانِ کرم

دل گیا ہے تیرے کوچے میں ٹہلنے کے لیے

جلوۂ حُور جبیں اس پہ جوانی کا غرور

ان کو جنت کی زمیں چاہیے چلنے کے لیے