ایک لمحہ تھا دل لگانے میں
اور سالوں لگے بُھلانے میں
اور سفّاک ہوتے جاتے ہیں
دن بہ دن مجھ کو آزمانے میں
میری پلکیں جھپک نہ جائیں کہیں
روشنی سے نظر مِلانے میں
ایک دن کٹ گیا گَلا اپنا
دوستوں کو گَلے لگانے میں
مِل گئے خاک میں بالآخر ہم
خاک کو کیمیاء بنانے میں
مسیح الدین شارق انصاری
No comments:
Post a Comment