Showing posts with label صلہ سندھو. Show all posts
Showing posts with label صلہ سندھو. Show all posts

Monday, 14 March 2022

عارضی پھول سی کاغذی پھول سی

 عارضی پھول سی کاغذی پھول سی 

چار دن جی چکے زندگی پھول سی

آپ ہی کی طرح آپ کی دوستی

باطنی خار سی ظاہری پھول سی

پاس بیٹھے رہو مسکراتے رہو

ہم سے کرتے رہو دل لگی پھول سی

Friday, 4 March 2022

مجھ میں زندہ تھی جو آس مرنے لگی

 مجھ میں زندہ تھی جو آس مرنے لگی

تم نہ سمجھے جو دل پر گزرنے لگی

رابطہ منقطع ہو گیا تھا، مگر

بے سبب رابطہ پھر میں کرنے لگی

خوبصورت لگی اپنی صورت مجھے

عشق میں کچھ زیادہ نکھرنے لگی

Sunday, 20 February 2022

جھوٹ سچ جب لگے تھے تجھے سوچ کر

 جھوٹ سچ جب لگے تھے تجھے سوچ کر

بر محل پھر کہے تھے تجھے سوچ کر

جب نہ تھا عشق تم بِن سکوں تھا بہت

اشکِ غم کب بہے تھے تجھے سوچ کر

روز پڑھ کر تجھے بھیجتے ہم رہے

جتنے بھی خط لکھے تھے تجھے سوچ کر

Saturday, 19 February 2022

اک تماشا کار الفت دلبرانہ تم نہ سمجھے

 اک تماشا کار الفت دلبرانہ تم نہ سمجھے

رقص بسمل کرچیوں پر وحشیانہ تم نہ سمجھے

سرکشی جس کی ہے فطرت بے رخی جس کی ہے عادت

آن بیٹھی روبرو کیوں عاجزانہ تم نہ سمجھے

تم نہ مانے کیوں نہ جانے ہم دیوانے سوچتے ہیں

تن سے لپٹی جب اداسی والہانہ تم نہ سمجھے

Saturday, 1 January 2022

بیٹھیے پاس اور کچھ نظر کیجیے

 بیٹھیۓ پاس اور کچھ نظر کیجیۓ

مستقل رات کو اب سحر کیجیۓ

ہم محبت زدہ شاعروں کی ذرا

قدر ہوتی نہیں ہے، مگر کیجیۓ

دوستوں میں چھپے دشمنوں پر کبھی

مشورہ ہے ذرا اک نظر کیجیۓ