عارضی پھول سی کاغذی پھول سی
چار دن جی چکے زندگی پھول سی
آپ ہی کی طرح آپ کی دوستی
باطنی خار سی ظاہری پھول سی
پاس بیٹھے رہو مسکراتے رہو
ہم سے کرتے رہو دل لگی پھول سی
عارضی پھول سی کاغذی پھول سی
چار دن جی چکے زندگی پھول سی
آپ ہی کی طرح آپ کی دوستی
باطنی خار سی ظاہری پھول سی
پاس بیٹھے رہو مسکراتے رہو
ہم سے کرتے رہو دل لگی پھول سی
مجھ میں زندہ تھی جو آس مرنے لگی
تم نہ سمجھے جو دل پر گزرنے لگی
رابطہ منقطع ہو گیا تھا، مگر
بے سبب رابطہ پھر میں کرنے لگی
خوبصورت لگی اپنی صورت مجھے
عشق میں کچھ زیادہ نکھرنے لگی
جھوٹ سچ جب لگے تھے تجھے سوچ کر
بر محل پھر کہے تھے تجھے سوچ کر
جب نہ تھا عشق تم بِن سکوں تھا بہت
اشکِ غم کب بہے تھے تجھے سوچ کر
روز پڑھ کر تجھے بھیجتے ہم رہے
جتنے بھی خط لکھے تھے تجھے سوچ کر
اک تماشا کار الفت دلبرانہ تم نہ سمجھے
رقص بسمل کرچیوں پر وحشیانہ تم نہ سمجھے
سرکشی جس کی ہے فطرت بے رخی جس کی ہے عادت
آن بیٹھی روبرو کیوں عاجزانہ تم نہ سمجھے
تم نہ مانے کیوں نہ جانے ہم دیوانے سوچتے ہیں
تن سے لپٹی جب اداسی والہانہ تم نہ سمجھے
بیٹھیۓ پاس اور کچھ نظر کیجیۓ
مستقل رات کو اب سحر کیجیۓ
ہم محبت زدہ شاعروں کی ذرا
قدر ہوتی نہیں ہے، مگر کیجیۓ
دوستوں میں چھپے دشمنوں پر کبھی
مشورہ ہے ذرا اک نظر کیجیۓ