Friday, 4 March 2022

مجھ میں زندہ تھی جو آس مرنے لگی

 مجھ میں زندہ تھی جو آس مرنے لگی

تم نہ سمجھے جو دل پر گزرنے لگی

رابطہ منقطع ہو گیا تھا، مگر

بے سبب رابطہ پھر میں کرنے لگی

خوبصورت لگی اپنی صورت مجھے

عشق میں کچھ زیادہ نکھرنے لگی

تھا بھروسہ مگر دل میں تھا ایک ڈر

شوق کی سیڑھیوں سے اترنے لگی

عشق کا اک نیا روپ تھا رو برو

ایک رقاصہ جب رقص کرنے لگی

ساز و آواز، موسیقی، ساغر، نشہ

مل گئے یوں کہ محفل سنورنے لگی


صلہ سندھو

No comments:

Post a Comment