Friday, 4 March 2022

دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو

 دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو

جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو

آزادگی میں شرط بھی ہے احتیاط کی

پرواز کا ہے اذن مگر پر سمیٹ لو

حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا

سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو

بکھرا ہوا ہوں صر صر شام فراق سے

اب آ بھی جاؤ اور مجھے آ کر سمیٹ لو

رکھتا نہیں ہے کوئی نگفتہ کا یاں حساب

جو کچھ ہے دل میں اس کو لبوں پر سمیٹ لو


جون ایلیا

No comments:

Post a Comment