Showing posts with label غزل انصاری. Show all posts
Showing posts with label غزل انصاری. Show all posts

Monday, 11 October 2021

بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں

 بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں

ہم بِنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیں

شکر ہے اتنے سمجھدار ہوئے ہیں بچے

راجا رانی کی کہانی سے نکل آئے ہیں

آئینہ دیکھ کے حیران ہوا ہے کیا کیا

آنکھ جھپکی تو جوانی سے نکل آئے ہیں

Sunday, 10 October 2021

زندگی کا کھیل

 زندگی کا کھیل


کھیل تو نرالے سب

زندگی دکھاتی ہے

پہلے خو د ہنساتی ہے

خود ہی پھر رُلاتی ہے

سوچتی ہوں یہ جیون

Saturday, 9 October 2021

دل جسے چاہے وہ مل جائے ضروری تو نہیں

 دل جسے چاہے وہ مِل جائے ضروری تو نہیں

دل کا ہر زخم ہی سِل جائے ضروری تو نہیں

جو میرے دل میں رہا پھول خوشبو کی طرح

وہ کلی بن کے بھی کھل جائے ضروری تو نہیں

جس کا خوابوں میں لگا رہتا ہے آنا جانا

وہ حقیقت میں بھی مل جائے ضروری تو نہیں

چلو مجھے اب رہائی دے دو

 مجھے اب رہائی دے دو


ضرورتوں کے عوض کیا تھا رہن خودی کو

ملے تھے جب تم زمانے پہلے

ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں

تمام قرضہ چکا دیا ہے

چلو مجھے اب رہائی دے دو

میں سود میں ختم ہو رہی ہوں

Friday, 8 October 2021

میں اکثر سوچا کرتی ہوں کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا

 میں اکثر سوچا کرتی ہوں

کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا

ہم دوسرے درجے کے شہری رہتے ہیں

سدا رہ کر بھی یہاں

پھر یاد ہم اس کو کرتے ہیں

جس دیس کو ہم نے چھوڑا تھا