بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں
ہم بِنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیں
شکر ہے اتنے سمجھدار ہوئے ہیں بچے
راجا رانی کی کہانی سے نکل آئے ہیں
آئینہ دیکھ کے حیران ہوا ہے کیا کیا
آنکھ جھپکی تو جوانی سے نکل آئے ہیں
بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں
ہم بِنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیں
شکر ہے اتنے سمجھدار ہوئے ہیں بچے
راجا رانی کی کہانی سے نکل آئے ہیں
آئینہ دیکھ کے حیران ہوا ہے کیا کیا
آنکھ جھپکی تو جوانی سے نکل آئے ہیں
زندگی کا کھیل
کھیل تو نرالے سب
زندگی دکھاتی ہے
پہلے خو د ہنساتی ہے
خود ہی پھر رُلاتی ہے
سوچتی ہوں یہ جیون
دل جسے چاہے وہ مِل جائے ضروری تو نہیں
دل کا ہر زخم ہی سِل جائے ضروری تو نہیں
جو میرے دل میں رہا پھول خوشبو کی طرح
وہ کلی بن کے بھی کھل جائے ضروری تو نہیں
جس کا خوابوں میں لگا رہتا ہے آنا جانا
وہ حقیقت میں بھی مل جائے ضروری تو نہیں
مجھے اب رہائی دے دو
ضرورتوں کے عوض کیا تھا رہن خودی کو
ملے تھے جب تم زمانے پہلے
ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں
تمام قرضہ چکا دیا ہے
چلو مجھے اب رہائی دے دو
میں سود میں ختم ہو رہی ہوں
میں اکثر سوچا کرتی ہوں
کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا
ہم دوسرے درجے کے شہری رہتے ہیں
سدا رہ کر بھی یہاں
پھر یاد ہم اس کو کرتے ہیں
جس دیس کو ہم نے چھوڑا تھا