میں اکثر سوچا کرتی ہوں
کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا
ہم دوسرے درجے کے شہری رہتے ہیں
سدا رہ کر بھی یہاں
پھر یاد ہم اس کو کرتے ہیں
جس دیس کو ہم نے چھوڑا تھا
خوشبو ہے نہ پھولوں کلیوں میں نہ رونق یہاں کی گلیوں میں
روحوں کو تھکا دینے والی تنہائی رگوں میں پلتی ہے
سردی کی ٹھٹھرتی شاموں میں
جب دیس کبھی یاد آتا ہے
آواز لگاتا پھلی گرم وہ ٹھیلہ یاد آجاتا ہے
کھاتے تھے میوے اور گجک سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں
سنتے تھے کہانی دادی سے ہم گھس کر گرم لحافوں میں
اب خواب ہوئے وہ دن سارے
بچوں کو ہیں کمپیوٹر پیارے
اب کون کہانی سنتا ہے
دل تانے بانے بُنتا ہے
یہ سوچ کے کُڑھتا رہتا ہے
کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا
جانا بھی جو چاہیں واپس
مزدود ہیں اب تو راہیں سب
اک بار وطن سے جو نکلا
وہ واپس نہ لوٹا گھر کو
بس آج اور کل میں بیت گیا
جیون کا سفر چُپکے سے یہاں
جب عمر کی نقدی ختم ہوئی
تو دل نے چُپکے سے پوچھا؛
کیوں دیس کو تم نے چھوڑا تھا
پردیس سے ناطہ جوڑا تھا
ماں باپ کا دل کیوں ٹوڑا تھا
سب رشتوں سے منہ موڑا تھا
کیوں دیس کو تم نے چھوڑا تھا
مہ جبیں غزل انصاری
No comments:
Post a Comment