Friday, 8 October 2021

میں اکثر سوچا کرتی ہوں کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا

 میں اکثر سوچا کرتی ہوں

کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا

ہم دوسرے درجے کے شہری رہتے ہیں

سدا رہ کر بھی یہاں

پھر یاد ہم اس کو کرتے ہیں

جس دیس کو ہم نے چھوڑا تھا

خوشبو ہے نہ پھولوں کلیوں میں نہ رونق یہاں کی گلیوں میں

روحوں کو تھکا دینے والی تنہائی رگوں میں پلتی ہے

سردی کی ٹھٹھرتی شاموں میں

جب دیس کبھی یاد آتا ہے

آواز لگاتا پھلی گرم وہ ٹھیلہ یاد آجاتا ہے

کھاتے تھے میوے اور گجک سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں

سنتے تھے کہانی دادی سے ہم گھس کر گرم لحافوں میں

اب خواب ہوئے وہ دن سارے

بچوں کو ہیں کمپیوٹر پیارے

اب کون کہانی سنتا ہے

دل تانے بانے بُنتا ہے

یہ سوچ کے کُڑھتا رہتا ہے

کیوں دیس کو ہم نے چھوڑا تھا

جانا بھی جو چاہیں واپس

مزدود ہیں اب تو راہیں سب

اک بار وطن سے جو نکلا

وہ واپس نہ لوٹا گھر کو

بس آج اور کل میں بیت گیا

جیون کا سفر چُپکے سے یہاں

جب عمر کی نقدی ختم ہوئی

تو دل نے چُپکے سے پوچھا؛

کیوں دیس کو تم نے چھوڑا تھا

پردیس سے ناطہ جوڑا تھا

ماں باپ کا دل کیوں ٹوڑا تھا

سب رشتوں سے منہ موڑا تھا

کیوں دیس کو تم نے چھوڑا تھا


مہ جبیں غزل انصاری

No comments:

Post a Comment