دیا وفا کا جلانا ہے دیکھیے کیا ہو
خلاف سارا زمانہ ہے دیکھیے کیا ہو
فریب کھا کے بھی کہنا ہے باوفا ان کو
وقارِ عشق بڑھانا ہے؛ دیکھیے کیا ہو
بہار بیچنے نکلے ہیں خود چمن والے
خزاں تو صرف بہانہ ہے دیکھیے کیا ہو
دیا وفا کا جلانا ہے دیکھیے کیا ہو
خلاف سارا زمانہ ہے دیکھیے کیا ہو
فریب کھا کے بھی کہنا ہے باوفا ان کو
وقارِ عشق بڑھانا ہے؛ دیکھیے کیا ہو
بہار بیچنے نکلے ہیں خود چمن والے
خزاں تو صرف بہانہ ہے دیکھیے کیا ہو
تم وفادار نہیں راہ نما ہو کر بھی
ہم پہ الزام ہے پابندِ وفا ہو کر بھی
ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا عجب عالم ہے
وہ خفا بھی نہیں لگتے ہیں، خفا ہو کر بھی
کھا گئے جب سے اجالوں کو اندھیرے یارو
ہم اجالوں کو ترستے ہیں، دِیا ہو کر بھی
نئے ثبوت پرانی دلیل پر رکھ دو
بُجھے چراغ بھی ٹُوٹی فصیل پر رکھ دو
تم اپنی اپنی خبر گیریاں کرو لوگو
وحی کا بوجھ پرِ جبرئیل پر رکھ دو
وطن کی یاد، جُدائی، صعوبتِ منزل
تمام بوجھ کو ابنِ السبیل پر رکھ دو
محبت میں الزام کیا دیکھتا ہے
یہ آغاز و انجام کیا دیکھتا ہے
یہاں رہگزر کے سوا کچھ نہیں ہے
یہ مڑ مڑ کے ہر گام کیا دیکھتا ہے
ابھی تو بہت دور چلنا ہے تجھ کو
گھڑی بھر کا آرام کیا دیکھتا ہے