Showing posts with label نہال تاباں. Show all posts
Showing posts with label نہال تاباں. Show all posts

Friday, 19 September 2025

دیا وفا کا جلانا ہے دیکھیے کیا ہو

 دیا وفا کا جلانا ہے دیکھیے کیا ہو

خلاف سارا زمانہ ہے دیکھیے کیا ہو

فریب کھا کے بھی کہنا ہے باوفا ان کو

وقارِ عشق بڑھانا ہے؛ دیکھیے کیا ہو

بہار بیچنے نکلے ہیں خود چمن والے

خزاں تو صرف بہانہ ہے دیکھیے کیا ہو

Tuesday, 21 January 2025

تم وفادار نہیں راہنما ہو کر بھی

 تم وفادار نہیں راہ نما ہو کر بھی

ہم پہ الزام ہے پابندِ وفا ہو کر بھی

ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا عجب عالم ہے

وہ خفا بھی نہیں لگتے ہیں، خفا ہو کر بھی

کھا گئے جب سے اجالوں کو اندھیرے یارو

ہم اجالوں کو ترستے ہیں، دِیا ہو کر بھی

Sunday, 19 January 2025

نئے ثبوت پرانی دلیل پر رکھ دو

 نئے ثبوت پرانی دلیل پر رکھ دو

بُجھے چراغ بھی ٹُوٹی فصیل پر رکھ دو

تم اپنی اپنی خبر گیریاں کرو لوگو

وحی کا بوجھ پرِ جبرئیل پر رکھ دو

وطن کی یاد، جُدائی، صعوبتِ منزل

تمام بوجھ کو ابنِ السبیل پر رکھ دو

Monday, 17 January 2022

محبت میں الزام کیا دیکھتا ہے

محبت میں الزام کیا دیکھتا ہے

یہ آغاز و انجام کیا دیکھتا ہے

یہاں رہگزر کے سوا کچھ نہیں ہے

یہ مڑ مڑ کے ہر گام کیا دیکھتا ہے

ابھی تو بہت دور چلنا ہے تجھ کو

گھڑی بھر کا آرام کیا دیکھتا ہے