وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا
تو ماہتابِ فلک کو حجاب آئے گا
خبر نہ تھی کہ مِٹیں گے جوان ہوتے ہی
اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا
پڑے گا عکس جو ساقی کی چشمِ میگوں کا
نظر شراب میں جامِ شراب آئے گا
وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا
تو ماہتابِ فلک کو حجاب آئے گا
خبر نہ تھی کہ مِٹیں گے جوان ہوتے ہی
اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا
پڑے گا عکس جو ساقی کی چشمِ میگوں کا
نظر شراب میں جامِ شراب آئے گا
شبِ فراق کچھ ایسا خیالِ یار رہا
کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا
کہے گی حشر کے دن اسکی رحمتِ بےحد
کہ بے گناہ سے اچھا گناہ گار رہا
تِرا خیال بھی کس درجہ شوخ ہے اے شوخ
کہ جتنی دیر رہا دل میں بے قرار رہا
تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے
دنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے
ہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم
معلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی
تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے
کچھ محبت میں عجب شیوۂ دلدار رہا
مجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہا
کچھ سروکار نہیں جان رہے یا نہ رہے
نہ رہا ان سے تو پھر کس سے سروکار رہا
شبِ خلوت، وہی حجت، وہی تکرار رہی
وہی قصہ، وہی غصہ، وہی انکار رہا
وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں
کیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوں
اپنے بیمار محبت کا مداوا نہ ہوا
اور پھر اس پہ یہ دعویٰ کہ مسیحا میں ہوں
عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں
آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں
جب مجھ سے پوچھتا ہے کوئی ماجرائے دل
بے اختیار منہ سے نکلتا ہے ہائے دل
کوئی تو بات تھی کہ جو ہم تم پہ مر مٹے
صورت ہی دلرہا ہو تو کیونکر نہ آئے دل
ہم تم کو کیا کہیں، مگر اتنی دعا تو ہے
اس کا بھی دل دُکھے جو ہمارا دُکھائے دل