Showing posts with label ناظم علی ہجر. Show all posts
Showing posts with label ناظم علی ہجر. Show all posts

Wednesday, 8 March 2023

وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

 وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

تو ماہتابِ فلک کو حجاب آئے گا

خبر نہ تھی کہ مِٹیں گے جوان ہوتے ہی

اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا

پڑے گا عکس جو ساقی کی چشمِ میگوں کا

نظر شراب میں جامِ شراب آئے گا

Thursday, 15 September 2022

شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا

 شبِ فراق کچھ ایسا خیالِ یار رہا

کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا

کہے گی حشر کے دن اسکی رحمتِ بےحد

کہ بے گناہ سے اچھا گناہ گار رہا

تِرا خیال بھی کس درجہ شوخ ہے اے شوخ

کہ جتنی دیر رہا دل میں بے قرار رہا

Tuesday, 6 September 2022

تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے

 تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے

دنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے

ہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم

معلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے

کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی

تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے

Saturday, 27 August 2022

کچھ محبت میں عجب شیوۂ دلدار رہا

 کچھ محبت میں عجب شیوۂ دلدار رہا

مجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہا

کچھ سروکار نہیں جان رہے یا نہ رہے

نہ رہا ان سے تو پھر کس سے سروکار رہا

شبِ خلوت، وہی حجت، وہی تکرار رہی

وہی قصہ، وہی غصہ، وہی انکار رہا

وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں

 وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں

کیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوں

اپنے بیمار محبت کا مداوا نہ ہوا

اور پھر اس پہ یہ دعویٰ کہ مسیحا میں ہوں

عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں

آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں

Sunday, 22 November 2020

جب مجھ سے پوچھتا ہے کوئی ماجرائے دل

 جب مجھ سے پوچھتا ہے کوئی ماجرائے دل

بے اختیار منہ سے نکلتا ہے ہائے دل

کوئی تو بات تھی کہ جو ہم تم پہ مر مٹے

صورت ہی دلرہا ہو تو کیونکر نہ آئے دل

ہم تم کو کیا کہیں، مگر اتنی دعا تو ہے

اس کا بھی دل دُکھے جو ہمارا دُکھائے دل