Showing posts with label اشرف یعقوبی. Show all posts
Showing posts with label اشرف یعقوبی. Show all posts

Thursday, 19 October 2023

کسی کا بس نہیں چلتا گلابی شام کے آگے

 کسی کا بس نہیں چلتا گلابی شام کے آگے

کہ توبہ ٹُوٹ جاتی ہے چھلکتے جام کے آگے

نہ ملتی دولتِ دنیا، سکونِ دل تو مل جاتا

نہ دل جُھکتا اگر اس کا کئی اصنام کے آگے

تھکن میری مجھے بستر کی جانب جب بُلاتی ہے

نکل آتا ہے کوئی کام پھر آرام کے آگے

Monday, 22 November 2021

محبت کی ہے فطرت آگ لہکائے گی پانی میں

 محبت کی ہے فطرت آگ لہکائے گی پانی میں

یہ وہ مچھلی ہے جو تنہا نہیں جائے گی پانی میں

کنول کے پھول کی چاہت اسے لائے گی پانی میں

لبِ جُو منتظر ہوں میں کہ وہ آئے گی پانی میں

مجھے کیا غم ہے جو فرعون پیچھے سامنے دریا

عصا سے کام لوں گا راہ بن جائے گی پانی میں

Friday, 19 November 2021

باز آئیے صاحب میرا گھر جلانے سے

 باز آئیے صاحب! میرا گھر جلانے سے

ورنہ ہم بھی واقف ہیں آپ کے ٹھکانے سے

ایک ایسا موسم بھی آنے والا ہے جس میں

زہر پھیل جائے گا گُل کے مسکرانے سے

جب بھی برق گرتی ہے میرے سر پہ گرتی ہے

دشمنی اسے کیوں ہے میرے آشیانے سے

Saturday, 13 November 2021

کسی کے تکیۂ احساں پہ اپنا سر رکھنا

 کسی کے تکیۂ احساں پہ اپنا سر رکھنا

مجھے عجیب سا لگتا ہے یہ ہنر رکھنا

یہ کام عطر فروشوں کو زیب دیتا ہے

عرق گلوں کے بدن سے اتار کر رکھنا

شمار شوقِ نظر میں یہ خو نہیں آتی

کسی کے تاج محل پہ بری نظر رکھنا

Thursday, 11 November 2021

بدن پر آبلے تلوؤں پہ جب چھالوں کا قبضہ تھا

 بدن پر آبلے تلوؤں پہ جب چھالوں کا قبضہ تھا

تو ہر شہرِ ستم پر حوصلہ والوں کا قبضہ تھا

کھنڈر میں ہو گئے تبدیل جو اونچے محل کل تھے

سناہے ہم نے ان پر حور سے گالوں کا قبضہ تھا

وہاں اہلِ سیاست اب دوکاں اپنی چلاتے ہیں

جہاں بندوق دھاری مافیا والوں کا قبضہ تھا

راج ہر سو ہے اندھیروں کا ضیا پردے میں ہے

 راج ہر سو ہے اندھیروں کا ضیا پردے میں ہے

قافلہ جائے کہاں؟ اب رہنما پردے میں ہے

پھر یہ ہو گا آستینوں کا لہو چِلائے گا

ظلم کا جس کے ابھی تک تذکرہ پردے میں ہے

رات بھر جلنے کی ہم تدبیر کر لیتے میاں

ہم نے یہ جانا نہیں پاگل ہوا پردے میں ہے

Wednesday, 10 November 2021

یہ کیسے مان لیں ہم اس کو کوئی غم نہیں ہوتا

 یہ کیسے مان لیں ہم اس کو کوئی غم نہیں ہوتا

کہ جس کی آنکھوں کا کوئی کنارا نم نہیں ہوتا

اگر ہاتھوں میں اس کے کاغذی پر چم نہیں ہوتا

تو بادل کے برسنے کا اسے بھی غم نہیں ہوتا

میں ضد کرتے ہوئے بچے کو آخر کیسے سمجھاؤں

مِرے کمرے کا جگنو سے اندھیرا کم نہیں ہوتا