کسی کا بس نہیں چلتا گلابی شام کے آگے
کہ توبہ ٹُوٹ جاتی ہے چھلکتے جام کے آگے
نہ ملتی دولتِ دنیا، سکونِ دل تو مل جاتا
نہ دل جُھکتا اگر اس کا کئی اصنام کے آگے
تھکن میری مجھے بستر کی جانب جب بُلاتی ہے
نکل آتا ہے کوئی کام پھر آرام کے آگے
کسی کا بس نہیں چلتا گلابی شام کے آگے
کہ توبہ ٹُوٹ جاتی ہے چھلکتے جام کے آگے
نہ ملتی دولتِ دنیا، سکونِ دل تو مل جاتا
نہ دل جُھکتا اگر اس کا کئی اصنام کے آگے
تھکن میری مجھے بستر کی جانب جب بُلاتی ہے
نکل آتا ہے کوئی کام پھر آرام کے آگے
محبت کی ہے فطرت آگ لہکائے گی پانی میں
یہ وہ مچھلی ہے جو تنہا نہیں جائے گی پانی میں
کنول کے پھول کی چاہت اسے لائے گی پانی میں
لبِ جُو منتظر ہوں میں کہ وہ آئے گی پانی میں
مجھے کیا غم ہے جو فرعون پیچھے سامنے دریا
عصا سے کام لوں گا راہ بن جائے گی پانی میں
باز آئیے صاحب! میرا گھر جلانے سے
ورنہ ہم بھی واقف ہیں آپ کے ٹھکانے سے
ایک ایسا موسم بھی آنے والا ہے جس میں
زہر پھیل جائے گا گُل کے مسکرانے سے
جب بھی برق گرتی ہے میرے سر پہ گرتی ہے
دشمنی اسے کیوں ہے میرے آشیانے سے
کسی کے تکیۂ احساں پہ اپنا سر رکھنا
مجھے عجیب سا لگتا ہے یہ ہنر رکھنا
یہ کام عطر فروشوں کو زیب دیتا ہے
عرق گلوں کے بدن سے اتار کر رکھنا
شمار شوقِ نظر میں یہ خو نہیں آتی
کسی کے تاج محل پہ بری نظر رکھنا
بدن پر آبلے تلوؤں پہ جب چھالوں کا قبضہ تھا
تو ہر شہرِ ستم پر حوصلہ والوں کا قبضہ تھا
کھنڈر میں ہو گئے تبدیل جو اونچے محل کل تھے
سناہے ہم نے ان پر حور سے گالوں کا قبضہ تھا
وہاں اہلِ سیاست اب دوکاں اپنی چلاتے ہیں
جہاں بندوق دھاری مافیا والوں کا قبضہ تھا
راج ہر سو ہے اندھیروں کا ضیا پردے میں ہے
قافلہ جائے کہاں؟ اب رہنما پردے میں ہے
پھر یہ ہو گا آستینوں کا لہو چِلائے گا
ظلم کا جس کے ابھی تک تذکرہ پردے میں ہے
رات بھر جلنے کی ہم تدبیر کر لیتے میاں
ہم نے یہ جانا نہیں پاگل ہوا پردے میں ہے
یہ کیسے مان لیں ہم اس کو کوئی غم نہیں ہوتا
کہ جس کی آنکھوں کا کوئی کنارا نم نہیں ہوتا
اگر ہاتھوں میں اس کے کاغذی پر چم نہیں ہوتا
تو بادل کے برسنے کا اسے بھی غم نہیں ہوتا
میں ضد کرتے ہوئے بچے کو آخر کیسے سمجھاؤں
مِرے کمرے کا جگنو سے اندھیرا کم نہیں ہوتا