Showing posts with label ارفع کنول. Show all posts
Showing posts with label ارفع کنول. Show all posts

Thursday, 13 July 2023

پاس آ تو بھی دل میں اتر بے خبر

 پاس آ تُو بھی دل میں اُتر بے خبر

دے کبھی مجھ کو اپنی خبر بے خبر

مجھ کو مُٹھی میں اپنی تو بھر ریت سا

میں نہ جاؤں کہیں یوں بکھر، بے خبر

چھوڑ آئینے کو جھانک آنکھوں میں تُو

عکس یاں دیکھ تُو بن سنور، بے خبر

Wednesday, 22 March 2023

ذرا ٹھہرو رکو دو پل

 ذرا ٹھہرو رکو دو پل

بہت پیاسی مِری آنکھیں

انہیں سیراب کرنے دو

مِرا دل رکھنے کو ہی تم

اگر کچھ پل ٹھہر جاؤ

نظر بھر کے تمھیں دیکھوں

Tuesday, 15 November 2022

تیرا اصرار نہ انکار تلک لے جاوے

 تیرا اصرار نہ انکار تلک لے جاوے

جیت کو تیری کہیں ہار تلک لے جاوے

ہے کرشمہ یہ بھی اہلِ جنوں کا جو اپنی

بند وہ آنکھ کرے یار تلک لے جاوے

کچھ تو اسرار ہے اس عشق میں پنہاں جو یوں

سر کو در سے یہ اٹھا؛ دار تلک لے جاوے

Thursday, 10 March 2022

سبز موسم ہے تو کیوں زرد ہوئے جاتے ہو

 سبز موسم ہے تو کیوں زرد ہوئے جاتے ہو

پیار پایا ہے تو بے درد ہوئے جاتے ہو

تم ہو قربت سے مِری جان پریشاں جو یوں

بیٹھ کے پہلو میں کیوں سرد ہوئے جاتے ہو

دل مِرا یار! تِری ایک نظر کو ترسے

اور تم سب کے ہی ہمدرد ہوئے جاتے ہو

Wednesday, 9 March 2022

دے بڑے شوق سے سزا مجھ کو

 دے بڑے شوق سے سزا مجھ کو

پر مِرا جرم تو بتا مجھ کو

روک تو لوں تجھے مگر کیا ہے 

روکتی یے مِری انا مجھ کو

مر سکوں گی نا جی سکوں گی میں

ایسے مت چھوڑ کے تو جا مجھ کو

Sunday, 6 March 2022

ہجر کے دشت میں ہیں یاد کے سائے ہائے

 ہجر کے دشت میں ہیں یاد کے سائے ہائے

دل کی دہلیز پہ تُو بھی کبھی آئے ہائے

رات ظلمت کی گھنیری ہے سو لازم سب پر

اپنے حصے کا دِیا 🪔 ایک جلائے ہائے

گردشِ دوراں سے کچھ وقت نکالو کہ رکھیں

اک ملاقات تُو، میں اور ہو چائے ہائے

Friday, 4 March 2022

ہجر ہو یا وصال ہو تو کیا

 ہجر ہو یا وصال ہو تو کیا؟

حال سے دل بے حال ہو تو کیا

کچھ دنوں کی ہو بس یہ سرشاری

پھر یہ برسوں ملال ہو تو کیا

کم اداسی نہیں کسی صورت

ہمسفر،۔ ہم خیال ہو تو کیا

Thursday, 3 March 2022

بوجھ ہے دل پہ رلاؤ مجھ کو

 بوجھ ہے دل پہ رلاؤ مجھ کو

پھر گلے سے بھی لگاؤ مجھے کو

ان کے آنے کی خبر پھیلی ہے

اب تو دلہن سا سجاؤ مجھ کو

خود کو مٹی کیا تیری خاطر

اور نہ مٹی میں ملاؤ مجھ کو

Wednesday, 2 March 2022

اب مان جائیے نہ یوں انکار کیجیے

 اب مان جائیے نہ یوں انکار کیجیے

ایسا سلوک تو نہ مِرے یار کیجیے

سنیے منافقت کو تو اب چھوڑ  دیجیے

نفرت اگر ہے مجھ سے تو اظہار کیجیے

شیشے سا دل مِرا کہاں جڑ پائے گا یہ اب

یوں بار بار آپ نہ اصرار کیجیے