پاس آ تُو بھی دل میں اُتر بے خبر
دے کبھی مجھ کو اپنی خبر بے خبر
مجھ کو مُٹھی میں اپنی تو بھر ریت سا
میں نہ جاؤں کہیں یوں بکھر، بے خبر
چھوڑ آئینے کو جھانک آنکھوں میں تُو
عکس یاں دیکھ تُو بن سنور، بے خبر
پاس آ تُو بھی دل میں اُتر بے خبر
دے کبھی مجھ کو اپنی خبر بے خبر
مجھ کو مُٹھی میں اپنی تو بھر ریت سا
میں نہ جاؤں کہیں یوں بکھر، بے خبر
چھوڑ آئینے کو جھانک آنکھوں میں تُو
عکس یاں دیکھ تُو بن سنور، بے خبر
ذرا ٹھہرو رکو دو پل
بہت پیاسی مِری آنکھیں
انہیں سیراب کرنے دو
مِرا دل رکھنے کو ہی تم
اگر کچھ پل ٹھہر جاؤ
نظر بھر کے تمھیں دیکھوں
تیرا اصرار نہ انکار تلک لے جاوے
جیت کو تیری کہیں ہار تلک لے جاوے
ہے کرشمہ یہ بھی اہلِ جنوں کا جو اپنی
بند وہ آنکھ کرے یار تلک لے جاوے
کچھ تو اسرار ہے اس عشق میں پنہاں جو یوں
سر کو در سے یہ اٹھا؛ دار تلک لے جاوے
سبز موسم ہے تو کیوں زرد ہوئے جاتے ہو
پیار پایا ہے تو بے درد ہوئے جاتے ہو
تم ہو قربت سے مِری جان پریشاں جو یوں
بیٹھ کے پہلو میں کیوں سرد ہوئے جاتے ہو
دل مِرا یار! تِری ایک نظر کو ترسے
اور تم سب کے ہی ہمدرد ہوئے جاتے ہو
دے بڑے شوق سے سزا مجھ کو
پر مِرا جرم تو بتا مجھ کو
روک تو لوں تجھے مگر کیا ہے
روکتی یے مِری انا مجھ کو
مر سکوں گی نا جی سکوں گی میں
ایسے مت چھوڑ کے تو جا مجھ کو
ہجر کے دشت میں ہیں یاد کے سائے ہائے
دل کی دہلیز پہ تُو بھی کبھی آئے ہائے
رات ظلمت کی گھنیری ہے سو لازم سب پر
اپنے حصے کا دِیا 🪔 ایک جلائے ہائے
گردشِ دوراں سے کچھ وقت نکالو کہ رکھیں
اک ملاقات تُو، میں اور ہو چائے ہائے
ہجر ہو یا وصال ہو تو کیا؟
حال سے دل بے حال ہو تو کیا
کچھ دنوں کی ہو بس یہ سرشاری
پھر یہ برسوں ملال ہو تو کیا
کم اداسی نہیں کسی صورت
ہمسفر،۔ ہم خیال ہو تو کیا
بوجھ ہے دل پہ رلاؤ مجھ کو
پھر گلے سے بھی لگاؤ مجھے کو
ان کے آنے کی خبر پھیلی ہے
اب تو دلہن سا سجاؤ مجھ کو
خود کو مٹی کیا تیری خاطر
اور نہ مٹی میں ملاؤ مجھ کو
اب مان جائیے نہ یوں انکار کیجیے
ایسا سلوک تو نہ مِرے یار کیجیے
سنیے منافقت کو تو اب چھوڑ دیجیے
نفرت اگر ہے مجھ سے تو اظہار کیجیے
شیشے سا دل مِرا کہاں جڑ پائے گا یہ اب
یوں بار بار آپ نہ اصرار کیجیے