راولپنڈی شہر
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
یہ ضروری ہے بہت
راولپنڈی شہر
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
یہ ضروری ہے بہت
مہاجر بچے
زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
نہ منہ پر نور ہوتا ہے
بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں
انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت
امر واقعہ
تو امر واقعہ یہ ہے
یہ بیوہ ہو گئی تھی
اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
پہلی دنیا کی اقوام
انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
کہاں جھکڑ چلانا ہیں
کسے آگے بڑھانا ہے
کسے پیچھے ہٹانا ہے
زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
مقابل کس کو لانا ہے