چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے
معجزہ کوزہ گر دکھا پھر۔۔۔سے
میری دم توڑتی امنگوں کو
بخش جینے کا حوصلہ پھر سے
اے دلِ بے قرار کس کے لیے
لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے
مجھ کو اس دشتِ خود نمائی میں
کون دینے لگا صدا پھر سے
زرد پتے ہیں سرد شامیں ہیں
کیا دسمبر ہے آ گیا پھر سے
اپنے اندر تلاش جاری رکھ
خود میں طوفان کر بپا پھر سے
جس میں باطن دکھائی دے عنبر
دل کو کر دے وہ آئینہ پھر سے
فرحانہ عنبر
No comments:
Post a Comment