ایک ہی جست پر کھڑی ہے
زندگی میرے اندر کہیں گڑی ہے
ایک پھانس کی طرح جیسے
سینے کے فریم میں جڑی ہے
میرے حق میں آستین چڑھا کر
زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے
میرے چہرے کی سلوٹیں دیکھ کر
زیست کہتی ہے یہ مجھ سے بڑی ہے
پوچھے کوئی زندگی کدھر ہے فرح
میں کہتی ہوں یہیں کہیں پڑی ہے
فرح بھٹو
No comments:
Post a Comment