Wednesday, 26 August 2026

زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے

 ایک ہی جست پر کھڑی ہے

زندگی میرے اندر کہیں گڑی ہے

ایک پھانس کی طرح جیسے

سینے کے فریم میں جڑی ہے

میرے حق میں آستین چڑھا کر

زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے

میرے چہرے کی سلوٹیں دیکھ کر

زیست کہتی ہے یہ مجھ سے بڑی ہے

پوچھے کوئی زندگی کدھر ہے فرح

میں کہتی ہوں یہیں کہیں پڑی ہے


فرح بھٹو 

No comments:

Post a Comment