سفر لگتا ہے سارا رائیگاں ہے
ہوائیں بھی مخالف تھیں ہماری
شکستہ تھے ہمارے بادباں بھی
مگر اک عزم تھا جوشِ جنوں تھا
سو ہم طُوفاں سے لڑ کر پار اُترے
سبھی کچھ ہار کر بھی شاد تھے ہم
یقیں تھا ہم کو، منزل مِل گئی ہے
مگر منظر کُھلا تو ہم نے جانا
کہ طُوفانوں میں گِھر کر رہ گئے ہیں
کوئی منزل، نہ منزل کا نشاں ہے
سفر لگتا ہے سارا رائیگاں ہے
راشد عباسی
No comments:
Post a Comment