Monday, 31 August 2026

دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

 دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے

ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا

سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے

اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم

بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے

آیا جو ان کو نام لبوں پر تو دوستو

آسان اپنے بگڑے ہوئے کام ہو گئے

سب لوگ دے رہے ہیں ہماری مثال آج

برباد ہو کے اور بھی بدنام ہو گئے


مریم غزالہ

No comments:

Post a Comment