وصل کا پیغام لے مجھ تک اجل آنے کو ہے
جان اِستقبالِ جاناں کے لیے جانے کو ہے
اس بُتِ کُرسی نشیں کا دیکھ جلوہ بام پر
حاملِ عرشِ بریں غش کھا کے گِر جانے کو ہے
ساجد و مسجود میں کیا فرق ہے پایا نہیں
شیخ طاعت آب کی خلقت کے دِکھلانے کو ہے
جان دی جس نے وہ جانا وصلِ جاناں کا مزا
شمع کا جو راز ہے معلوم پروانے کو ہے
نعمتِ دِیدارِ حق حصے میں تیرے ہے کہاں
شیخ جی! جنت کے میوے جی تیرا کھانے کو ہے
کُفر جس جا ہے وہاں ایمان آتا ہے نظر
رشتہ کچھ زنّار سے تسبیح کے دانے کو ہے
کیا فضا ہے کُوئے جاناں میں نہیں جانا کوئی
تن جو قاصر ہے وطن کا جان سے جانے کو ہے
وطن حیدرآبادی
No comments:
Post a Comment