سلسلہ زخم زخم جاری ہے
یہ زمیں دور تک ہماری ہے
اس زمیں سے عجب تعلق ہے
ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے
میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں
جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے
سلسلہ زخم زخم جاری ہے
یہ زمیں دور تک ہماری ہے
اس زمیں سے عجب تعلق ہے
ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے
میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں
جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے
یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا
وہ گھر بنائے گا اپنا کہ گھر بسائے گا
میں سارے شہر میں بدنام ہوں خبر ہے مجھے
وہ میرے نام سے کیا فائدہ اٹھائے گا
پھر اس کے بعد اجالے خریدنے ہوں گے
ذرا سی دیر میں سورج تو ڈوب جائے گا
کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے
وہ خط بھی مگر میں نے جلا کر نہیں پھینکے
ٹھہرے ہوئے پانی نے اشارہ تو کیا تھا
کچھ سوچ کے خود میں نے ہی پتھر نہیں پھینکے
اک طنز ہے کلیوں کا تبسم بھی مگر کیوں
میں نے تو کبھی پھول مسل کر نہیں پھینکے
خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے
مرے سفر کی تھکن کون اتار جاتا ہے
یہ اس کا اپنا طریقہ ہے دان کرنے کا
وہ جس سے شرط لگاتا ہے ہار جاتا ہے
یہ کھیل میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا
میں جیت جاتا ہوں بازی وہ مار جاتا ہے
جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں
یا کسی اور طلبگار کو دے دیتا ہوں
دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کےلیے
اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں
جو دعا اپنے لیے مانگنی ہوتی ہے مجھے
وہ دعا بھی کسی غمخوار کو دے دیتا ہوں
اب نہیں لوٹ کے آنے والا
گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا
ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں
رک گیا روز کا آنے والا
عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے
ایک تصویر بنانے والا