Showing posts with label اختر نظمی. Show all posts
Showing posts with label اختر نظمی. Show all posts

Wednesday, 3 November 2021

سلسلہ زخم زخم جاری ہے

 سلسلہ زخم زخم جاری ہے

یہ زمیں دور تک ہماری ہے

اس زمیں سے عجب تعلق ہے

ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے

میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں

جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے

Wednesday, 23 June 2021

یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا

 یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا

وہ گھر بنائے گا اپنا کہ گھر بسائے گا

میں سارے شہر میں بدنام ہوں خبر ہے مجھے

وہ میرے نام سے کیا فائدہ اٹھائے گا

پھر اس کے بعد اجالے خریدنے ہوں گے

ذرا سی دیر میں سورج تو ڈوب جائے گا

Tuesday, 22 June 2021

کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے

 کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے

وہ خط بھی مگر میں نے جلا کر نہیں پھینکے

ٹھہرے ہوئے پانی نے اشارہ تو کیا تھا

کچھ سوچ کے خود میں نے ہی پتھر نہیں پھینکے

اک طنز ہے کلیوں کا تبسم بھی مگر کیوں

میں نے تو کبھی پھول مسل کر نہیں پھینکے

Monday, 23 November 2020

خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے

 خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے

مرے سفر کی تھکن کون اتار جاتا ہے

یہ اس کا اپنا طریقہ ہے دان کرنے کا

وہ جس سے شرط لگاتا ہے ہار جاتا ہے

یہ کھیل میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا

میں جیت جاتا ہوں بازی وہ مار جاتا ہے

Saturday, 21 November 2020

جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں

 جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں

یا کسی اور طلبگار کو دے دیتا ہوں

دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کےلیے

اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں

جو دعا اپنے لیے مانگنی ہوتی ہے مجھے

وہ دعا بھی کسی غمخوار کو دے دیتا ہوں

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

 اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں

رک گیا روز کا آنے والا

عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے

ایک تصویر بنانے والا