Showing posts with label فوقیہ مشتاق. Show all posts
Showing posts with label فوقیہ مشتاق. Show all posts

Thursday, 16 March 2023

اک دعا خون میں تر ہوئی

 اک دعا خون میں تر ہوئی

 

کٹ گیا ہاتھ اور انگلیاں کھو گئیں

اک دعا خون میں تر ہوئی

تم پہ صد آفریں

علم کا وہ علم پھر بھی تھامے رہیں

تم کو معلوم ہے

Wednesday, 19 October 2022

خواہش کا چھوٹا سا پودا وقت کی دھوپ میں جل جاتا ہے

 وقت کی دھوپ


کبھی کبھی ایسا لگتا ہے

خلا کے اندر ہی سب کچھ ہے

سناٹوں کی اپنی ہی آوازیں ہوتی ہیں

اور ان آوازوں کا سننا مشکل ہوتا ہے

آنے والے لمحے خوف دلاتے ہیں

Wednesday, 30 March 2022

کیا کوئی فیصلہ بھی کرنا ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


کیا کوئی فیصلہ بھی کرنا ہے

مجھ کو اب زندگی کے بارے میں

فیصلہ اس کا اب بھی باقی ہے


فوقیہ مشتاق

Tuesday, 29 March 2022

رات بھی آج اماوس کی ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


کس منظر کو ڈھونڈ رہی ہو

سورج کب کا ڈوب چکا ہے

رات بھی آج اماوس کی ہے


فوقیہ مشتاق

Monday, 28 March 2022

ہم کنارے ہیں تو دریا کون ہے

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


وہ کناروں کے درمیان دریا

مجھ کو کوئی رقیب لگتا ہے

ہم کنارے ہیں تو دریا کون ہے؟


فوقیہ مشتاق

Sunday, 27 March 2022

کیسے کہہ دوں کہ تجھ کو بھول گئی

 ہائیکو/ماہیہ/سر حرفی/تروینی/سہ مصرعی


جب بھی کوئی خوشی کی بات ہوئی

تیرا غم آ کے کھا گیا اس کو

کیسے کہہ دوں کہ تجھ کو بھول گئی


فوقیہ مشتاق

Wednesday, 22 December 2021

جلتی روح کچھ لوگوں نے جلا دیا تھا ایک بدن کو

جلتی روح


پہلا منظر

کچھ لوگوں نے جلا دیا تھا

ایک بدن کو

سبب تو کچھ معلوم نہیں تھا

آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے