اک دعا خون میں تر ہوئی
کٹ گیا ہاتھ اور انگلیاں کھو گئیں
اک دعا خون میں تر ہوئی
تم پہ صد آفریں
علم کا وہ علم پھر بھی تھامے رہیں
تم کو معلوم ہے
اک دعا خون میں تر ہوئی
کٹ گیا ہاتھ اور انگلیاں کھو گئیں
اک دعا خون میں تر ہوئی
تم پہ صد آفریں
علم کا وہ علم پھر بھی تھامے رہیں
تم کو معلوم ہے
وقت کی دھوپ
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے
خلا کے اندر ہی سب کچھ ہے
سناٹوں کی اپنی ہی آوازیں ہوتی ہیں
اور ان آوازوں کا سننا مشکل ہوتا ہے
آنے والے لمحے خوف دلاتے ہیں
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
کیا کوئی فیصلہ بھی کرنا ہے
مجھ کو اب زندگی کے بارے میں
فیصلہ اس کا اب بھی باقی ہے
فوقیہ مشتاق
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
کس منظر کو ڈھونڈ رہی ہو
سورج کب کا ڈوب چکا ہے
رات بھی آج اماوس کی ہے
فوقیہ مشتاق
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
وہ کناروں کے درمیان دریا
مجھ کو کوئی رقیب لگتا ہے
ہم کنارے ہیں تو دریا کون ہے؟
فوقیہ مشتاق
ہائیکو/ماہیہ/سر حرفی/تروینی/سہ مصرعی
جب بھی کوئی خوشی کی بات ہوئی
تیرا غم آ کے کھا گیا اس کو
کیسے کہہ دوں کہ تجھ کو بھول گئی
فوقیہ مشتاق
جلتی روح
پہلا منظر
کچھ لوگوں نے جلا دیا تھا
ایک بدن کو
سبب تو کچھ معلوم نہیں تھا
آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے