ہر بات جس کی تھی کبھی للکار کی طرح
خاموش آج ہے وہی دیوار کی طرح
مشاطۂ سیاستِ حاضر بھی دنگ ہے
اُلجھی ہے بات گیسُوئے خمدار کی طرح
اس کو سفارشوں سے ملی ہے یہ برتری
وہ آدمی کھڑا ہے جو مینار کی طرح
ہر بات جس کی تھی کبھی للکار کی طرح
خاموش آج ہے وہی دیوار کی طرح
مشاطۂ سیاستِ حاضر بھی دنگ ہے
اُلجھی ہے بات گیسُوئے خمدار کی طرح
اس کو سفارشوں سے ملی ہے یہ برتری
وہ آدمی کھڑا ہے جو مینار کی طرح
ساحل پہ یہ ٹوٹے ہوئے تختے جو پڑے ہیں
ٹکرائے ہیں طوفاں سے تلاطم سے لڑے ہیں
دل اپنا جلاؤ شب ظلمت کے حریفو
کیا غم ہے چراغوں کے اگر قحط پڑے ہیں
چڑھنے دو ابھی اور ذرا وقت کا سورج
ہو جائیں گے چھوٹے یہی سائے جو بڑے ہیں
آداب زندگی سے بہت دور ہو گیا
شہرت ذرا ملی تو وہ مغرور ہو گیا
اب رقص خاک و خوں پہ کوئی بولتا نہیں
جیسے یہ میرے ملک کا دستور ہو گیا
دشمن سے سرحدوں کو بچانا تھا جس کا کام
اپنوں کو قتل کرنے پہ مامور ہو گیا
لہو انسان کا سستا لگے ہے
جسے دیکھو وہی پیاسا لگے ہے
اسے دیکھوں تو رسماً مسکرا دوں
یہ سودا بھی مجھے مہنگا لگے ہے
تعلق کُش، وفا دُشمن، ستم گر
مجھے یہ دور بھی تم سا لگے ہے
راہزن ہی تو ہے، راہبر ہی تو ہے
خوف کیوں کھائیے، ہمسفر ہی تو ہے
ہم شراروں کو جگنو سمجھنے لگے
اپنی اپنی بساطِ نظر ہی تو ہے
سن رہا ہوں کہ وہ میرے گھر آئیں گے
میں نے مانا مگر یہ خبر ہی تو ہے
برسات کا ادھر ہے دماغ آسمان پر
چھپر ادھر نہیں ہے ہمارے مکان پر
مسجد میں اس کو دیکھ کے حیران رہ گیا
تنقید کر رہا تھا جو کل تک اذان پر
کاغذ کے بال و پر پہ بھروسہ نہ کیجئے
جانا اگر ہے آپ کو اونچی اڑان پر