Showing posts with label شہود عالم آفاقی. Show all posts
Showing posts with label شہود عالم آفاقی. Show all posts

Thursday, 28 September 2023

ہر بات جس کی تھی کبھی للکار کی طرح

 ہر بات جس کی تھی کبھی للکار کی طرح

خاموش آج ہے وہی دیوار کی طرح

مشاطۂ سیاستِ حاضر بھی دنگ ہے

اُلجھی ہے بات گیسُوئے خمدار کی طرح

اس کو سفارشوں سے ملی ہے یہ برتری

وہ آدمی کھڑا ہے جو مینار کی طرح

Thursday, 14 September 2023

ساحل پہ یہ ٹوٹے ہوئے تختے جو پڑے ہیں

 ساحل پہ یہ ٹوٹے ہوئے تختے جو پڑے ہیں

ٹکرائے ہیں طوفاں سے تلاطم سے لڑے ہیں

دل اپنا جلاؤ شب ظلمت کے حریفو

کیا غم ہے چراغوں کے اگر قحط پڑے ہیں

چڑھنے دو ابھی اور ذرا وقت کا سورج

ہو جائیں گے چھوٹے یہی سائے جو بڑے ہیں

Tuesday, 23 May 2023

آداب زندگی سے بہت دور ہو گیا

 آداب زندگی سے بہت دور ہو گیا

شہرت ذرا ملی تو وہ مغرور ہو گیا

اب رقص خاک و خوں پہ کوئی بولتا نہیں

جیسے یہ میرے ملک کا دستور ہو گیا

دشمن سے سرحدوں کو بچانا تھا جس کا کام

اپنوں کو قتل کرنے پہ مامور ہو گیا

Monday, 8 May 2023

لہو انسان کا سستا لگے ہے

 لہو انسان کا سستا لگے ہے

جسے دیکھو وہی پیاسا لگے ہے

اسے دیکھوں تو رسماً مسکرا دوں

یہ سودا بھی مجھے مہنگا لگے ہے

تعلق کُش، وفا دُشمن، ستم گر

مجھے یہ دور بھی تم سا لگے ہے

Sunday, 7 May 2023

راہزن ہی تو ہے راہبر ہی تو ہے

 راہزن ہی تو ہے، راہبر ہی تو ہے

خوف کیوں کھائیے، ہمسفر ہی تو ہے

ہم شراروں کو جگنو سمجھنے لگے

اپنی اپنی بساطِ نظر ہی تو ہے

سن رہا ہوں کہ وہ میرے گھر آئیں گے

میں نے مانا مگر یہ خبر ہی تو ہے

Sunday, 28 March 2021

برسات کا ادھر ہے دماغ آسمان پر

 برسات کا ادھر ہے دماغ آسمان پر

چھپر ادھر نہیں ہے ہمارے مکان پر

مسجد میں اس کو دیکھ کے حیران رہ گیا

تنقید کر رہا تھا جو کل تک اذان پر

کاغذ کے بال و پر پہ بھروسہ نہ کیجئے

جانا اگر ہے آپ کو اونچی اڑان پر