Showing posts with label گلفام نقوی. Show all posts
Showing posts with label گلفام نقوی. Show all posts

Sunday, 23 January 2022

ہیں بہت تیز ہوائیں یوں مجھے خاک نہ کر

 ہیں بہت تیز ہوائیں یوں مجھے خاک نہ کر

زندگی! دیکھ، مِرا دامنِ دل چاک نہ کر

یہ محبت کا سفر اتنا بھی آسان نہیں

پیار کی حد ہے کہاں، سوچ کو بے باک نہ کر

دل پہ جو گزری ہے چپ چاپ سہے جا ہنس کر

ہے یہ توہینِ وفا، آنکھ کو نمناک نہ کر

Monday, 27 December 2021

قدم جب لڑکھڑاتے ہیں سہارے مل ہی جاتے ہیں

 قدم جب لڑکھڑاتے ہیں سہارے مل ہی جاتے ہیں 

کبھی ڈوبے ہوؤں کو بھی کنارے مل ہی جاتے ہیں 

مسافر جب مسافت کا ارادہ  ٹھان لیتے ہیں 

منزل پہ پہنچنے کے اشارے مل ہی جاتے ہیں 

نظارہ کوئی بھی نظر سے اوجھل رہ نہیں سکتا 

اگر نظریں سلامت ہوں، نظارے مل ہی جاتے ہیں 

Sunday, 26 December 2021

کشت ویراں میں نئی خواہشیں بونے کے لیے

 کشتِ وِیراں میں نئی خواہشیں بونے کے لیے

کوئی احساس تو ہو، ہونے نہ ہونے کے لیے

یہ ضروری تو نہیں زخم کوئی تازہ لگے

سو بہانے ہیں کسی بات پہ رونے کے لیے

چند اک اشک تو آنکھوں میں بچائے رکھیں

داغ جو دل میں بچے ہیں انہیں دھونے کے لیے

Friday, 10 December 2021

انہیں اپنا کہا ہے جب سے جینا آ گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


انہیںؐ اپنا کہا ہے جب سے جینا آ گیا ہے

سرِ ساحل عقیدت کا سفینہ آ گیا ہے

خدا کا شکر ہے نام محمدﷺ ہے زباں پر

میرے عاجز سے ہاتھوں میں نگینہ آ گیا ہے

لگی ہے ہر گھڑی اب دل کو خواہش حاضری کی

کھلے جب آنکھ تو دیکھوں مدینہ آ گیا ہے

Wednesday, 8 December 2021

فطرت کا حسن جب کسی منظر میں آ گیا

 فطرت کا حسن جب کسی منظر میں آ گیا

نظمِ حیات مرکز و محور میں آ گیا

اس نے نظر نظر سے ملائی تو رنگ و نور

پھولوں میں آ گیا، مہ و اختر میں آ گیا

دل میں ہجومِ درد جو دیکھا تو یوں لگا

دل میرا جیسے عرصۂ محشر میں آ گیا

Wednesday, 9 June 2021

نشیب دل میں کسی یاد کی نمو بھی نہیں

نشیبِ دل میں کسی یاد کی نمو بھی نہیں 

بچھڑ چُکے ہیں تو پھر تیری گفتگو بھی نہیں

میرے نصیب کی خوشیاں بھی تیرے ساتھ گئیں

پھر ایسا کیا ہے تُو میرے رو برو بھی نہیں

میرے رقیب نے میرا مزاج ہے اوڑھا

ہے کچھ اداس مگر اتنا ہو بہو بھی نہیں