ہیں بہت تیز ہوائیں یوں مجھے خاک نہ کر
زندگی! دیکھ، مِرا دامنِ دل چاک نہ کر
یہ محبت کا سفر اتنا بھی آسان نہیں
پیار کی حد ہے کہاں، سوچ کو بے باک نہ کر
دل پہ جو گزری ہے چپ چاپ سہے جا ہنس کر
ہے یہ توہینِ وفا، آنکھ کو نمناک نہ کر
ہیں بہت تیز ہوائیں یوں مجھے خاک نہ کر
زندگی! دیکھ، مِرا دامنِ دل چاک نہ کر
یہ محبت کا سفر اتنا بھی آسان نہیں
پیار کی حد ہے کہاں، سوچ کو بے باک نہ کر
دل پہ جو گزری ہے چپ چاپ سہے جا ہنس کر
ہے یہ توہینِ وفا، آنکھ کو نمناک نہ کر
قدم جب لڑکھڑاتے ہیں سہارے مل ہی جاتے ہیں
کبھی ڈوبے ہوؤں کو بھی کنارے مل ہی جاتے ہیں
مسافر جب مسافت کا ارادہ ٹھان لیتے ہیں
منزل پہ پہنچنے کے اشارے مل ہی جاتے ہیں
نظارہ کوئی بھی نظر سے اوجھل رہ نہیں سکتا
اگر نظریں سلامت ہوں، نظارے مل ہی جاتے ہیں
کشتِ وِیراں میں نئی خواہشیں بونے کے لیے
کوئی احساس تو ہو، ہونے نہ ہونے کے لیے
یہ ضروری تو نہیں زخم کوئی تازہ لگے
سو بہانے ہیں کسی بات پہ رونے کے لیے
چند اک اشک تو آنکھوں میں بچائے رکھیں
داغ جو دل میں بچے ہیں انہیں دھونے کے لیے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
انہیںؐ اپنا کہا ہے جب سے جینا آ گیا ہے
سرِ ساحل عقیدت کا سفینہ آ گیا ہے
خدا کا شکر ہے نام محمدﷺ ہے زباں پر
میرے عاجز سے ہاتھوں میں نگینہ آ گیا ہے
لگی ہے ہر گھڑی اب دل کو خواہش حاضری کی
کھلے جب آنکھ تو دیکھوں مدینہ آ گیا ہے
فطرت کا حسن جب کسی منظر میں آ گیا
نظمِ حیات مرکز و محور میں آ گیا
اس نے نظر نظر سے ملائی تو رنگ و نور
پھولوں میں آ گیا، مہ و اختر میں آ گیا
دل میں ہجومِ درد جو دیکھا تو یوں لگا
دل میرا جیسے عرصۂ محشر میں آ گیا
نشیبِ دل میں کسی یاد کی نمو بھی نہیں
بچھڑ چُکے ہیں تو پھر تیری گفتگو بھی نہیں
میرے نصیب کی خوشیاں بھی تیرے ساتھ گئیں
پھر ایسا کیا ہے تُو میرے رو برو بھی نہیں
میرے رقیب نے میرا مزاج ہے اوڑھا
ہے کچھ اداس مگر اتنا ہو بہو بھی نہیں