Showing posts with label احمد شناس. Show all posts
Showing posts with label احمد شناس. Show all posts

Thursday, 2 March 2023

امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں

 امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں

کل اور کسی رنگ میں ہونے کے لیے ہوں

تو بھی ہے فقط اپنی شہادت کا طلب گار

میں بھی تو اسی درد میں رونے کے لیے ہوں

جینے کا تقاضا مجھے مرنے نہیں دیتا

مر کر بھی سمجھتا ہوں کہ ہونے کے لیے ہوں

Thursday, 20 May 2021

میں فتح ذات منظر تک نہ پہنچا

 میں فتح ذات منظر تک نہ پہنچا

مرا تیشہ مرے سر تک نہ پہنچا

اسے معمار لکھا بستیوں نے

کہ جو پہلے ہی پتھر تک نہ پہنچا

تجارت دل کی دھڑکن گن رہی ہے

تعلق لطف منظر تک نہ پہنچا

Tuesday, 2 March 2021

کچھ شفق ڈوبتے سورج کی بچا لی جائے

 کچھ شفق ڈوبتے سورج کی بچا لی جائے 

رنگِ امکاں سے کوئی شکل بنا لی جائے 

حرفِ مہمل سا کوئی ہاتھ پہ اس کے رکھ دو 

قحط کیسا ہے کہ ہر سانس سوالی جائے 

شہرِ ملبوس میں کیوں اتنا برہنہ رہیے 

کوئی چھت، یا کوئی دیوار خیالی جائے 

Friday, 26 February 2021

دشت امید میں خوابوں کا سفر کرنا تھا

 دشتِ امید میں خوابوں کا سفر کرنا تھا

تُو کہ اک لمحۂ ناپید بسر کرنا تھا

ہم نے کیوں آپسی اضداد کے نکتے ڈھونڈے

ہم نے تو خود کو بہم شیر و شکر کرنا تھا

نقش بنتا ہی نہیں سنگ سماعت پہ کوئی

کُند الفاظ کو پھر تیر و تبر کرنا تھا

Tuesday, 9 February 2021

یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے

 یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے

حقیقت زندگی سے ماورا ہے

ابھی چہرے کا خاکہ بن رہا ہے

ابھی کچھ اور بھی میرے سوا ہے

ہمیں جو کچھ ملا ناقص ملا ہے

مگر خوش فہمیوں کی انتہا ہے

Tuesday, 12 January 2021

صبح وجود ہوں کہ شب انتظار ہوں

 صبحِ وجود ہوں کہ شبِ انتظار ہوں

میں آشکار ہوں کہ پسِ آشکار ہوں

ہر رنگ بے قرار ہوں ہر نقشِ ناتمام

مٹی کا درد ہوں کہ ستاروں کا پیار ہوں

کچھ تو مِرے وجود کا حصہ ہے تیرے پاس

ورنہ میں اپنے آپ میں کیوں انتظار ہوں

Monday, 11 January 2021

محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو

 محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو

متاعِ جاں کو بدن سے نکال کر دیکھو

بدل کے دیکھو کبھی نسبتوں کی دنیا کو

بدن کو روح کے خانے میں ڈال کر دیکھو

سنو اسے تو سماعت سے ماوراء ہو کر

جو دیکھنا ہو تو آنکھیں نکال کر دیکھو

Sunday, 10 January 2021

جسم کے بیاباں میں درد کی دعا مانگیں

 جسم کے بیاباں میں درد کی دعا مانگیں

پھر کسی مسافر سے روشنی ذرا مانگیں

کھو گئے کتابوں میں تتلیوں کے بال و پر

سوچ میں ہیں اب بچے کیا چھپائیں کیا مانگیں

زعفرانی کھیتوں میں اب مکان اُگتے ہیں

کس طرح زمینوں سے دل کا رابطہ مانگیں

Saturday, 9 January 2021

تصور کو جگا رکھا ہے اس نے

 تصور کو جگا رکھا ہے اس نے

دریچہ نیم وا رکھا ہے اس نے

ذرا سا پھول میرے باغ میں ہے

بہت کچھ ماورا رکھا ہے اس نے

بنا دیکھے گواہی مانگتا ہے

سوال اپنا جدا رکھا ہے اس نے

Friday, 8 January 2021

بس اک جہان تحیر سے آنے والا ہے

 بس اک جہان تحیر سے آنے والا ہے 

وہ اجنبی مجھے اپنا بنانے والا ہے 

گلاب سنگ کی صورت دکھانے والا ہے 

کہاں کہاں وہ مجھے آزمانے والا ہے 

کوئی تو دیکھنے والا ہے میری آنکھوں سے 

کوئی تو ہے جو تماشہ دکھانے والا ہے