امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں
کل اور کسی رنگ میں ہونے کے لیے ہوں
تو بھی ہے فقط اپنی شہادت کا طلب گار
میں بھی تو اسی درد میں رونے کے لیے ہوں
جینے کا تقاضا مجھے مرنے نہیں دیتا
مر کر بھی سمجھتا ہوں کہ ہونے کے لیے ہوں
امروز کی کشتی کو ڈبونے کے لیے ہوں
کل اور کسی رنگ میں ہونے کے لیے ہوں
تو بھی ہے فقط اپنی شہادت کا طلب گار
میں بھی تو اسی درد میں رونے کے لیے ہوں
جینے کا تقاضا مجھے مرنے نہیں دیتا
مر کر بھی سمجھتا ہوں کہ ہونے کے لیے ہوں
میں فتح ذات منظر تک نہ پہنچا
مرا تیشہ مرے سر تک نہ پہنچا
اسے معمار لکھا بستیوں نے
کہ جو پہلے ہی پتھر تک نہ پہنچا
تجارت دل کی دھڑکن گن رہی ہے
تعلق لطف منظر تک نہ پہنچا
کچھ شفق ڈوبتے سورج کی بچا لی جائے
رنگِ امکاں سے کوئی شکل بنا لی جائے
حرفِ مہمل سا کوئی ہاتھ پہ اس کے رکھ دو
قحط کیسا ہے کہ ہر سانس سوالی جائے
شہرِ ملبوس میں کیوں اتنا برہنہ رہیے
کوئی چھت، یا کوئی دیوار خیالی جائے
دشتِ امید میں خوابوں کا سفر کرنا تھا
تُو کہ اک لمحۂ ناپید بسر کرنا تھا
ہم نے کیوں آپسی اضداد کے نکتے ڈھونڈے
ہم نے تو خود کو بہم شیر و شکر کرنا تھا
نقش بنتا ہی نہیں سنگ سماعت پہ کوئی
کُند الفاظ کو پھر تیر و تبر کرنا تھا
یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے
حقیقت زندگی سے ماورا ہے
ابھی چہرے کا خاکہ بن رہا ہے
ابھی کچھ اور بھی میرے سوا ہے
ہمیں جو کچھ ملا ناقص ملا ہے
مگر خوش فہمیوں کی انتہا ہے
صبحِ وجود ہوں کہ شبِ انتظار ہوں
میں آشکار ہوں کہ پسِ آشکار ہوں
ہر رنگ بے قرار ہوں ہر نقشِ ناتمام
مٹی کا درد ہوں کہ ستاروں کا پیار ہوں
کچھ تو مِرے وجود کا حصہ ہے تیرے پاس
ورنہ میں اپنے آپ میں کیوں انتظار ہوں
محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو
متاعِ جاں کو بدن سے نکال کر دیکھو
بدل کے دیکھو کبھی نسبتوں کی دنیا کو
بدن کو روح کے خانے میں ڈال کر دیکھو
سنو اسے تو سماعت سے ماوراء ہو کر
جو دیکھنا ہو تو آنکھیں نکال کر دیکھو
جسم کے بیاباں میں درد کی دعا مانگیں
پھر کسی مسافر سے روشنی ذرا مانگیں
کھو گئے کتابوں میں تتلیوں کے بال و پر
سوچ میں ہیں اب بچے کیا چھپائیں کیا مانگیں
زعفرانی کھیتوں میں اب مکان اُگتے ہیں
کس طرح زمینوں سے دل کا رابطہ مانگیں
تصور کو جگا رکھا ہے اس نے
دریچہ نیم وا رکھا ہے اس نے
ذرا سا پھول میرے باغ میں ہے
بہت کچھ ماورا رکھا ہے اس نے
بنا دیکھے گواہی مانگتا ہے
سوال اپنا جدا رکھا ہے اس نے
بس اک جہان تحیر سے آنے والا ہے
وہ اجنبی مجھے اپنا بنانے والا ہے
گلاب سنگ کی صورت دکھانے والا ہے
کہاں کہاں وہ مجھے آزمانے والا ہے
کوئی تو دیکھنے والا ہے میری آنکھوں سے
کوئی تو ہے جو تماشہ دکھانے والا ہے