Showing posts with label حضورعظیم آبادی. Show all posts
Showing posts with label حضورعظیم آبادی. Show all posts

Sunday, 18 January 2026

مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی

عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی

مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی

جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں

مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی

عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال

بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی

Sunday, 3 August 2025

یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا

 یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا

دیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کا

معنی میں لفظ ایک ہے یہ رب و رام کا

حاصل یہ ہے کہ ہے وہی حاصل کلام کا

دیکھا تو سب حقیقت و معنی میں ایک ہیں

صورت میں گرچہ فرق ہے آپس میں نام کا

Wednesday, 10 February 2021

محزوں نہ ہو حضور اب آتا ہے یار اپنا

محزوں نہ ہو حضور اب آتا ہے یار اپنا

کرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپنا

جب سے گیا وہ مہ رو آغوش سے ہماری

رہتا ہے جیوں مہ نو خالی کنار اپنا

زلف و رخ صنم کے غم میں سدا رہے ہم

گزرا ہمیشہ یوں ہی لیل و نہار اپنا

Thursday, 12 November 2020

بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا

بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا

آپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہوا

چشم سے کیا ہے فائدہ دل میں نہ ہو جو ذوق دید

شیشے میں مے نہ جب رہے جام رہا تو کیا ہوا

ہم سے غریب بھی بھلا مجرے کے باریاب ہوں

اذن تیرا کبھی کبھی عام رہا تو کیا ہوا