عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی
مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی
جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں
مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی
عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال
بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی
عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی
مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی
جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں
مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی
عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال
بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی
یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کا
دیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کا
معنی میں لفظ ایک ہے یہ رب و رام کا
حاصل یہ ہے کہ ہے وہی حاصل کلام کا
دیکھا تو سب حقیقت و معنی میں ایک ہیں
صورت میں گرچہ فرق ہے آپس میں نام کا
محزوں نہ ہو حضور اب آتا ہے یار اپنا
کرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپنا
جب سے گیا وہ مہ رو آغوش سے ہماری
رہتا ہے جیوں مہ نو خالی کنار اپنا
زلف و رخ صنم کے غم میں سدا رہے ہم
گزرا ہمیشہ یوں ہی لیل و نہار اپنا
بعد مکیں مکاں کا گر بام رہا تو کیا ہوا
آپ ہی جب رہے نہیں نام رہا تو کیا ہوا
چشم سے کیا ہے فائدہ دل میں نہ ہو جو ذوق دید
شیشے میں مے نہ جب رہے جام رہا تو کیا ہوا
ہم سے غریب بھی بھلا مجرے کے باریاب ہوں
اذن تیرا کبھی کبھی عام رہا تو کیا ہوا