عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کلام اُس کا امامُ الکلام ٹھہرا ہے
مقام اُس کا ہی عالی مقام ٹھہرا ہے
بہت سے گُزرے ہیں پہلے، بہت سے گُزریں گے
غُلام اُس کا ہی ذِی احتشام ٹھہرا ہے
نظر اُٹھا نہ سکے اور نظر مِلا نہ سکے
کہ اُس کی نظروں میں ایسا نظام ٹھہرا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کلام اُس کا امامُ الکلام ٹھہرا ہے
مقام اُس کا ہی عالی مقام ٹھہرا ہے
بہت سے گُزرے ہیں پہلے، بہت سے گُزریں گے
غُلام اُس کا ہی ذِی احتشام ٹھہرا ہے
نظر اُٹھا نہ سکے اور نظر مِلا نہ سکے
کہ اُس کی نظروں میں ایسا نظام ٹھہرا ہے
لکھ تو پھر لکھ اسی قرینے میں
جان پڑ جائے دل دفینے میں
جسم زخمی تھا اور گیلے پر
آگ اک جل رہی تھی سینے میں
رکنے پائی بھی ہے اڑان کبھی
کب، پنہ لی کسی سفینے میں؟
کہیں سائے تھے کچھ پھیلے ہوئے سے
کہیں سورج بدن مَیلے ہوئے سے
کھڑے تھے دھوپ کے سائے میں حیراں
بدن ہر دل کے تھے سہمے ہوئے سے
جو کہتا تھا وہ ہو جاتا تھا اکثر
اگرچہ بال تھے بکھرے ہوئے سے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اس نور کی اُس حسن کے شہکار کی باتیں
اب آؤ کریں سیدِ ابرارﷺ کی باتیں
اس اکمل و افضل کے ہی اخلاق حسیں کے
افکار کی، گفتار کی، کردار کی باتیں
حکمت سے ہیں مامور تو عرفان سے پر ہیں
اس خُلقِ مجسمﷺ کے ہی انوار کی باتیں
میں بھی اپنے آپ میں گم تھا تم اپنی آواز میں چُپ
اک تارا خاموش تھا صاحب سُر اپنے ہی ساز میں چپ
دونوں کی تنہائی میں بھی ایک عجب پہنائی تھی
میں اپنے انجام پہ ششدر تم اپنے آغاز میں چپ
ایک ہجوم تھا میرے اندر تم طوفانی بارش تھے
میں اپنے انداز میں چپ تھا تم اپنے انداز میں چپ
سنو کہ چارۂ ہجراں کا سال آ ہی گیا
مۓ نہال میں دم بھر جمال آ ہی گیا
جو کھل اٹھی ہے تمنا براہِ دیدہ و دل
دیارِ حسن کا مالک طلال آ ہی گیا
دعا سے ٹل ہی گیا وہ عذابِ ہجر حرام
نوید ہو کہ یہ وصلِ حلال آ ہی گیا
سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے
💢ہمارے بیچ فقط اک یہی لڑائی ہے
کسی نے خود سے تراشا ہے اس کو تھوڑا بہت
کسی کے واسطے دنیا بنی بنائی ہے
بھلے یہ سر ہی کٹے پر کہیں جبیں نہ جھکے
ہمارے پُرکھوں نے دولت یہی کمائی ہے
اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بُجھا دئیے
جتنے بھی تھے چراغ وہ سارے بجھا دئیے
اس بار دے ہی دیتا میں دُشمن کو مات بھی
لیکن یہ کس نے میرے سہارے بجھا دئیے
ان آنسوؤں کی بھیڑ سے ٹُوٹا ہے حوصلہ
بارش نے آج پھر سے ستارے بجھا دئیے
ایک امید پہ بازار کو تکتے رہنا
کتنا مشکل ہے خریدار کو تکتے رہنا
یہ ضروری تو نہیں ہے کہ کوئی بات کرو
تم وہاں بیٹھ کے بیمار کو تکتے رہنا
اس نے دیوار پہ تصویر لگا دی اپنی
اور کہنے لگا؛ دیوار کو تکتے رہنا