Showing posts with label احمد منیب. Show all posts
Showing posts with label احمد منیب. Show all posts

Monday, 13 November 2023

کلام اس کا امام الکلام ٹھہرا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کلام اُس کا امامُ الکلام ٹھہرا ہے

مقام اُس کا ہی عالی مقام ٹھہرا ہے

بہت سے گُزرے ہیں پہلے، بہت سے گُزریں گے

غُلام اُس کا ہی ذِی احتشام ٹھہرا ہے

نظر اُٹھا نہ سکے اور نظر مِلا نہ سکے

کہ اُس کی نظروں میں ایسا نظام ٹھہرا ہے

Saturday, 16 April 2022

لکھ تو پھر لکھ اسی قرینے میں

 لکھ تو پھر لکھ اسی قرینے میں

جان پڑ جائے دل دفینے میں

جسم زخمی تھا اور گیلے پر

آگ اک جل رہی تھی سینے میں

رکنے پائی بھی ہے اڑان کبھی

کب، پنہ لی کسی سفینے میں؟

Tuesday, 15 March 2022

کہیں سائے تھے کچھ پھیلے ہوئے سے

 کہیں سائے تھے کچھ پھیلے ہوئے سے

کہیں سورج بدن مَیلے ہوئے سے

کھڑے تھے دھوپ کے سائے میں حیراں

بدن ہر دل کے تھے سہمے ہوئے سے

جو کہتا تھا وہ ہو جاتا تھا اکثر

اگرچہ بال تھے بکھرے ہوئے سے

Thursday, 3 March 2022

اس نور کی اس حسن کے شہکار کی باتیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اس نور کی اُس حسن کے شہکار کی باتیں

اب آؤ کریں سیدِ ابرارﷺ کی باتیں

اس اکمل و افضل کے ہی اخلاق حسیں کے

افکار کی، گفتار کی، کردار کی باتیں

حکمت سے ہیں مامور تو عرفان سے پر ہیں

اس خُلقِ مجسمﷺ کے ہی انوار کی باتیں

Monday, 28 February 2022

میں بھی اپنے آپ میں گم تھا تم اپنی آواز میں چپ

 میں بھی اپنے آپ میں گم تھا تم اپنی آواز میں چُپ

اک تارا خاموش تھا صاحب سُر اپنے ہی ساز میں چپ

دونوں کی تنہائی میں بھی ایک عجب پہنائی تھی

میں اپنے انجام پہ ششدر تم اپنے آغاز میں چپ

ایک ہجوم تھا میرے اندر تم طوفانی بارش تھے

میں اپنے انداز میں چپ تھا تم اپنے انداز میں چپ

Friday, 18 February 2022

سنو کہ چارۂ ہجراں کا سال آ ہی گیا

 سنو کہ چارۂ ہجراں کا سال آ ہی گیا

مۓ نہال میں دم بھر جمال آ ہی گیا

جو کھل اٹھی ہے تمنا براہِ دیدہ و دل

دیارِ حسن کا مالک طلال آ ہی گیا

دعا سے ٹل ہی گیا وہ عذابِ ہجر حرام

نوید ہو کہ یہ وصلِ حلال آ ہی گیا

Thursday, 17 February 2022

سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے

 سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے

💢ہمارے بیچ فقط اک یہی لڑائی ہے

کسی نے خود سے تراشا ہے اس کو تھوڑا بہت

کسی کے واسطے دنیا بنی بنائی ہے

بھلے یہ سر ہی کٹے پر کہیں جبیں نہ جھکے

ہمارے پُرکھوں نے دولت یہی کمائی ہے

Wednesday, 16 February 2022

اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بجھا دئیے

 اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بُجھا دئیے

جتنے بھی تھے چراغ وہ سارے بجھا دئیے

اس بار دے ہی دیتا میں دُشمن کو مات بھی

لیکن یہ کس نے میرے سہارے بجھا دئیے

ان آنسوؤں کی بھیڑ سے ٹُوٹا ہے حوصلہ

بارش نے آج پھر سے ستارے بجھا دئیے

Monday, 18 October 2021

ایک امید پہ بازار کو تکتے رہنا

 ایک امید پہ بازار کو تکتے رہنا

کتنا مشکل ہے خریدار کو تکتے رہنا

یہ ضروری تو نہیں ہے کہ کوئی بات کرو

تم وہاں بیٹھ کے بیمار کو تکتے رہنا

اس نے دیوار پہ تصویر لگا دی اپنی

اور کہنے لگا؛ دیوار کو تکتے رہنا