Showing posts with label گوہر ملسیانی. Show all posts
Showing posts with label گوہر ملسیانی. Show all posts

Tuesday, 23 August 2022

اے کافر مشرک فرزانو توہین رسالت کرتے ہو

 تنبیہ کلام؛ توہین رسالتﷺ کرتے ہو


اے ظالم، جابر انسانو! اے جام نجس کے دیوانو

اے شمعِ ہوس کے پروانو! اے عقل وخرد سے بیگانو

اخلاق سے عاری نادانو! اے بے خبر، اے شیطانو

اے کافر، مشرک فرزانو! توہین رسالتﷺ کرتے ہو؟


اس فعلِ شنیع کا مغرب میں ڈنمارک سے آغاز ہوا

Monday, 22 August 2022

وسعت میں دشت کی لگا پلنے وہ شیر خوار

 کلام بر شق الصدرِ نبیؐ


وسعت میں دشت کی لگا پلنے وہ شیر خوار

حسن و جمال و نور پر ہوتے تھے سب نثار

شیما کے ساتھ کھیلتا گھر میں تھا ہونہار

ریوڑ چرانے کھیتوں میں جاتا تھا ذی وقار

محنت بنی تھی آپﷺ کی سرمایۂ حیات

پائی تھیں رہنمائی کی ساری حسیں صفات

Sunday, 20 March 2022

سیرت و کردار دیتے ہیں شہادت آپ کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 

سیرت و کردار دیتے ہیں شہادت آپﷺ کی

چار سُو تاباں جہاں میں ہے صداقت آپﷺ کی

زندگانی کا سلیقہ آپﷺ نے بتلا دیا

نوعِ انساں پر ہے بے پایاں عنایت آپﷺ کی

آپﷺ کے افکار تو قرآن کی تفسیر ہیں

باعثِ رحمت زمانے میں رسالت آپﷺ کی

Saturday, 19 March 2022

جو لب پہ خیر الوریٰ کے آیا وہ لفظ فرمان ہو گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 

جو لب پہ خیر الوریٰؐ کے آیا وہ لفظ فرمان ہو گیا ہے

بہارِ مدحت کا ہے وہ مژدہ، ثنا کا عنوان ہو گیا ہے

چمک اٹھی پھر حسین محفل، درودِ خیر البشرؐ کی ضو سے

چلا ہے ذکرِ حضورؐ جب بھی وہ نورِ عرفان ہو گیا ہے

دیارِ طیبہ میں شب گزارے، جہاں محبت کے ہیں نظارے

جو مدتوں سے ترس رہا تھا وہ انؐ کا مہمان ہو گیا ہے

Thursday, 18 November 2021

حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حصارِ نور میں ہوں گلشنِ طیبہ میں رہتا ہوں

خوشا قسمت کہ میں تو جلوۂ زیبا میں رہتا ہوں

شفق پھیلی ہو یا ہو صبح کے انوار کا منظر

میں بے خود سا خیال سنتِ آقاؐ میں رہتا ہوں

مِری سوکھی ہوئی کھیتی خدا سر سبز کر دے گا

میں روز و شب خیالِ گنبد خضریٰ میں رہتا ہوں