Showing posts with label میلہ رام وفا. Show all posts
Showing posts with label میلہ رام وفا. Show all posts

Thursday, 1 April 2021

محفل میں ادھر اور ادھر دیکھ رہے ہیں

 محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

عالم ہے تِرے پرتوِ رُخ سے یہ ہمارا

حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

بھاگے چلے جاتے ہیں ادھر کو تو عجب کیا

رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں

Wednesday, 31 March 2021

دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے

 دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے

لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے

راحتِ وصل کسی کو، تو کسی کو غمِ ہجر

صبر خالق نے دیا ہے مجھے سب کے بدلے

اتنی سی بات پہ بِگڑے ہی چلے جاتے ہو

لے لو تم بوسۂ لب، بوسۂ لب کے بدلے

Saturday, 27 March 2021

بیگانہ وار ہم سے یگانہ بدل گیا

 بے گانہ وار ہم سے یگانہ بدل گیا

کیسی چلی ہوا، کہ زمانہ بدل گیا

آنکھیں بھی دیکھتی ہیں زمانہ کے رنگ ڈھنگ

دل بھی سمجھ رہا ہے زمانہ بدل گیا

بدلا نہ تھا زمانہ اگر تم نہ بدلے تھے

جب تم بدل گئے، تو زمانہ بدل گیا

پوچھیں وہ کاش حال دل بیقرار کا

 پوچھیں وہ کاش حال دلِ بے قرار کا

ہم بھی کہیں کہ شُکر ہے پروردگار کا

لازم اگر ہے شکر ہی پروردگار کا

پھر کیا علاج گردشِ لیل و نہار کا

صیاد بھی پہنچ گیا، گُلچی بھی باغ میں

اے ہم صفیر! آ گیا موسم بہار کا

Wednesday, 24 March 2021

صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک

 صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک

جان ٹھہری نہ دلِ دوست میں گھر ہونے تک

شبِ فُرقت کی بھی ہونے کو سحر تو ہو گی

ہاں مگر ہم نہیں ہونے کے سحر ہونے تک

سہنے ہیں جور و ستم، جھیلنے ہیں رنج و الم

یعنی کرنی ہے بسر عمر بسر ہونے تک

Wednesday, 9 December 2020

کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

 کہنا ہی مِرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

رہتا ہے وہ بت شکوۂ اغیار پہ خاموش

کہتا ہے تُو کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

یہ بات کہ کہنا ہے مجھے تم سے بہت کچھ

اس بات سے پیدا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا