محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
عالم ہے تِرے پرتوِ رُخ سے یہ ہمارا
حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں
بھاگے چلے جاتے ہیں ادھر کو تو عجب کیا
رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں
محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
عالم ہے تِرے پرتوِ رُخ سے یہ ہمارا
حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں
بھاگے چلے جاتے ہیں ادھر کو تو عجب کیا
رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں
دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے
راحتِ وصل کسی کو، تو کسی کو غمِ ہجر
صبر خالق نے دیا ہے مجھے سب کے بدلے
اتنی سی بات پہ بِگڑے ہی چلے جاتے ہو
لے لو تم بوسۂ لب، بوسۂ لب کے بدلے
بے گانہ وار ہم سے یگانہ بدل گیا
کیسی چلی ہوا، کہ زمانہ بدل گیا
آنکھیں بھی دیکھتی ہیں زمانہ کے رنگ ڈھنگ
دل بھی سمجھ رہا ہے زمانہ بدل گیا
بدلا نہ تھا زمانہ اگر تم نہ بدلے تھے
جب تم بدل گئے، تو زمانہ بدل گیا
پوچھیں وہ کاش حال دلِ بے قرار کا
ہم بھی کہیں کہ شُکر ہے پروردگار کا
لازم اگر ہے شکر ہی پروردگار کا
پھر کیا علاج گردشِ لیل و نہار کا
صیاد بھی پہنچ گیا، گُلچی بھی باغ میں
اے ہم صفیر! آ گیا موسم بہار کا
صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک
جان ٹھہری نہ دلِ دوست میں گھر ہونے تک
شبِ فُرقت کی بھی ہونے کو سحر تو ہو گی
ہاں مگر ہم نہیں ہونے کے سحر ہونے تک
سہنے ہیں جور و ستم، جھیلنے ہیں رنج و الم
یعنی کرنی ہے بسر عمر بسر ہونے تک
کہنا ہی مِرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
رہتا ہے وہ بت شکوۂ اغیار پہ خاموش
کہتا ہے تُو کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ بات کہ کہنا ہے مجھے تم سے بہت کچھ
اس بات سے پیدا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا